اِسؔ خط کو کم سے کم تین مرتبہ غور سے پڑھیں یہ خط اگرچہ بظاہر آپ کے نام ہے لیکن اس کی بہت سی عبارتیں دوسروں کے اوہام دور کرنے کیلئے ہیں گو بظاہر آپ ہی مخاطب ہیں۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ محبی و عزیزی اخویم نواب محمد علی خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السّلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکا تہٗ ایک ہفتہ سے بلکہ عشرہ سے زیادہ گذر گیا کہ آں محب کا محبت نامہ پہنچا تھا چونکہ اس میں امور مستفسرہ بہت تھے اور مجھے بباعث تالیف کتاب آئینہ کمالات اسلام بغایت درجہ کمی فرصت تھی۔ کیونکہ ہر روز مضمون طیار کر کے دیا جاتا ہے۔ اس لئے میں جواب لکھنے سے معذور رہا اور آپ کی طرف سے تقاضا بھی نہیں تھا۔ آج مجھے خیال آیا کہ چونکہ آپ ایک خالص محب ہیں اور آپ کا استفسار سراسر نیک ارادہ اور نیک نیت پر مبنی ہے اس لئے بعض امور سے آپ کو آگاہ کرنا اور آپ کیلئے جو بہتر ہے اس سے اطلاع دینا ایک امر ضروری ہے۔ لہٰذا چند سطور آپ کی آگاہی کیلئے ذیل میں لکھتا ہوں۔ یہ سچ ہے کہ جب سے اس عاجز نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بامر اللہ تعالیٰ کیا ہے تب سے وہ لوگ جو اپنے اندر قوت فیصلہ نہیں رکھتے عجب تذبذب اور کشمکش میں پڑ گئے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ قیل و قال سے فیصلہ نہیں ہو سکتا مباہلہ کیلئے اب طیار ہونا چاہیئے اور آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی نشان بھی دکھلانا چاہیئے۔ (۱) مباہلہ کی نسبت آپ کے خط سے چند روز پہلے مجھے خودبخود اللہ جلّ شانہٗ نے اجازت دیدی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے آپ کے ارادہ کا توارد ہے کہ آپ کی طبیعت میں یہ جنبش پیدا ہوئی۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اب اجازت دینے میں حکمت یہ ہے کہ اول حال میں صرف اسلئے مباہلہ ناجائز تھا کہ ابھی مخالفین کو بخوبی سمجھایا نہیں گیا تھا اور وہ اصل حقیقت سے سراسر ناواقف تھے اور تکفیر پر