کیا ؔ گیا ہے یعنے یہ کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور مکالمہ الٰہیہ سے مشرف ہوں۔ اور مامور من اللہ ہوں اور میری صداقت کا نشان یہ پیشگوئی ہے۔ اب آپ اگر کچھ بھی اللہ جلّ شانہٗ کا خوف رکھتے ہیں تو سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی پیشگوئی جو منجانب اللہ ہونے کیلئے بطور ثبوت کے پیش کی گئی ہے اسی حالت میں سچی ہو سکتی تھی کہ جب درحقیقت یہ عاجز منجانب اللہ ہو کیونکہ خدا تعالیٰ ایک مفتری کی پیشگوئی کو جو ایک جھوٹے دعویٰ کیلئے بطور شاہد صدق بیان کی گئی ہرگز سچی نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ اس میں خلق اللہ کو دھوکا لگتا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ خود مدعی صادق کیلئے یہ علامت قرار دے کر فرماتا ہے33۔۱ اور فرماتا ہے 333۔۲ رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں۔ پس اس پیشگوئی کے الہامی ہونے کیلئے ایک مسلمان کیلئے یہ دلیل کافی ہے جو منجانب اللہ ہونے کے دعویٰ کے ساتھ یہ پیشگوئی بیان کی گئی اور خدا تعالیٰ نے اس کو سچی کر کے دکھلا دیا اور اگر آپ کے نزدیک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دراصل مفتری ہو اور سراسر دروغ گوئی سے کہے کہ میں خلیفۃ اللہ اور مامور من اللہ اور مجدّد وقت اور مسیح موعود ہوں اور میرے صدق کا نشان یہ ہے کہ اگر فلاں شخص مجھے اپنی بیٹی نہیں دے گا اور کسی دوسرے سے نکاح کر دے گا تو نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ اس سے بہت قریب فوت ہو جائے گا اور پھر ایسا ہی واقعہ ہو جائے تو برائے خدا اس کی نظیر پیش کرو۔ ورنہ یاد رکھو کہ مرنے کے بعد اس انکار اور تکذیب اور تکفیر سے پوچھے جاؤ گے۔ خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ 33۳
سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو اس کی