بے دؔ ین قرابتیوں پر اثر پڑتا تھا خدا ترس آدمی سمجھ سکتا ہے کہ موت اور حیات انسان کے اختیار میں نہیں اور ایسی پیشگوئی جس میں ایک شخص کی موت کو اس کی بیٹی کے نکاح کے ساتھ جو غیر سے ہو وابستہ کر دیا گیا اور موت کی حد مقرر کر دی گئی انسان کا کام نہیں ہے۔ چونکہ یہ الہامی پیشگوئی صاف بیان کر رہی تھی کہ مرزا احمد بیگ کی موت اور حیات اس کی لڑکی کے نکاح سے وابستہ ہے اس لئے پانچ برس تک یعنی جب تک اس لڑکی کا کسی دوسری جگہ نکاح نہ کیا گیا مرزا احمد بیگ زندہ رہا اور پھر ۷؍ اپریل ۱۸۹۲ ؁ء میں احمد بیگ نے اس لڑکی کا ایک جگہ نکاح کر دیا اور بموجب پیشگوئی کے تین برس کے اندر یعنے نکاح سے چھٹے مہینہ میں جو ۳۰ ؍ستمبر ۱۸۹۲ ؁ء تھی فوت ہوگیا اور اسی اشتہار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگرچہ روز نکاح سے موت کی تاریخ تین برس تک بتلائی گئی ہے مگر دوسرے کشف سے معلوم ہوا کہ کچھ بہت عرصہ نہیں گذرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نکاح اور موت میں صرف چھ مہینہ بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہا یعنے جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ ۷؍ اپریل ۱۸۹۲ ؁ء میں نکاح ہوا اور ۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۲ ؁ء کو مرزا احمد بیگ اس جہان فانی سے رخصت ہوگیا۔ اب ذرا خدا تعالیٰ سے ڈر کر کہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہوگئی یا نہیں اور اگر آپ کے دل کو یہ دھوکا ہو کہ کیونکر یقین ہو کہ یہ الہامی پیشگوئی ہے کیوں جائز نہیں کہ دوسرے وسائل نجوم و رمل و جفر وغیرہ سے ہو تو اس کا یہ جواب ہے کہ منجموں کی اس طور کی پیشگوئی نہیں ہوا کرتی جس میں اپنے ذاتی فائدہ کے لحاظ سے اس طور کی شرطیں ہوں کہ اگر فلاں شخص ہمیں بیٹی دے تو زندہ رہے گا ورنہ نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ بہت جلد مر جائے گا اگر دنیا میں کسی منجم یا رمّال کی اِس قسم کی پیشگوئی ظہور میں آئی ہے تو وہ اس کے ثبوت کے ساتھ پیش کریں علاوہ اس کے اس پیشگوئی کے ساتھ اشتہار میں ایک دعویٰ پیش