شخصؔ کی نسبت ہوا ہے وہ مبرم اور قطعی الوقوع ہے یا اس کا وقوع معلق ہے اور جو ڈر یا عذاب اس میں بیان کیا گیا ہے وہ در صورت اس کے تابع ہو جانے کے اس شخص سے اٹھ سکتا ہے۔ پس اگر خدا تعالیٰ آپ کو یہ بتا دے کہ وہ مبرم نہیں معلق ہے تو آپ خدا کی جناب میں دعا کریں کہ وہ مجھے آپ کی شناخت کی توفیق دے اور آپ کے تابع کر دے*۔ اور مجھ سے وہ عذاب اٹھالے اور اس امر میں اپنے دریائے رحمت کو جوش میں لاویں اور اس نبی رحیم کی سنت پر عمل کریں جس کو اس کی قوم نے مار کر خون آلودہ کر دیا تھا اور وہ اپنے چہرہ سے خون پونچھتا اور یہ کہتا تھا۔ اللّٰھم اغفر لقومی فانّھم لا یعلمون اور نیز آنحضرت کی اس سنت پر عمل کریں کہ جب آپ کے پاس ملک الجبال نے حاضر ہو کر کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے منکروں اور مخالفوں کو پہاڑ کے نیچے کچل دوں تو آپ نے فرمایا میں یہ نہیں چاہتا اور میں امید کرتا ہوں کہ ان کی ُ پشتوں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو خدا کی توحید پکاریں گے۔ اور اگر خدا تعالیٰ آپ کو یہ خبر دے کہ یہ الہام مبرم و قطعی الوقوع ہے تو پھر آپ میری دعوت سے دستبردار ہوں اور اپنے تابعین کو وہ الہام سنا کر ان پر اپنی نبوت و ولایت ثابت کریں۔ اس صورت میں مجھے دعوت کرنا فضول ہے کیونکہ قطعی وعدہ عذاب کے بعد کسی نبی نے دعوت نہیں کی۔ اور اگر آپ اپنی اس دھمکی پر مصر رہیں گے تو طالب حق اور منصف جان لیں گے کہ آپ اس دعوت و انذار میں فریب کرتے ہیں اور جھوٹے ہیں۔ میں اخیر میں یہ بھی آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ اگر میں آپ کی مخالفت میں نیک نیت اور حق پر ہوں۔ اور دین اسلام کی حمایت کر رہا ہوں اور نفسانیت کو اِس ۔خداتعالیٰ کسی ملہم کی دعا سے اس کو ہدایت کرتا ہے جس کے دل پر زیغ اور کجی کا غلبہ نہیں ہوتا۔ ورنہ بموجب 3 ۱؂ ہدایت پانے سے محروم رہتا ہے۔ منہ