صاحبؔ کے انتقال کے بعد کبھی میں نے بجز اس خط کے مقدمہ کے جس کا ذکر کر چکا ہوں کوئی مقدمہ کیا ہو۔ اگر میں مقدمہ کرنے سے بالطبع متنفر نہ ہوتا۔ میں والد صاحب کے انتقال کے بعد جو پندرہ سال کا عرصہ گذر گیا آزادی سے مقدمات کیا کرتا اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ ان مقدمات کا مہاجنوں کے مقدمات پر قیاس کرنا کور باطن آدمیوں کا کام ہے۔ میں اس بات کو چھپا نہیں سکتا کہ کئی پشت سے میرے خاندان میں زمینداری چلی آتی ہے اور اب بھی ہے۔ اور زمیندار کو ضرورتاً کبھی مقدمہ کی حاجت پڑ جاتی ہے مگر یہ امر ایک منصف مزاج کی نظر میں حرج کا محل نہیں ٹھہر سکتا۔ حدیثوں کو پڑھو کہ وہ آخری زمانہ میں آنے والا اور اس زمانہ میں آنے والا کہ جب قریش سے بادشاہی جاتی رہے گی اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک تفرقہ اور پریشانی میں پڑی ہوئی ہوگی زمیندار ہی ہوگا۔ اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ مَیں ہوں۔ احادیث نبویہ میں صاف لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک مو ّ ید دین و ملّت پیدا ہوگا اور اس کی یہ علامت ہوگی کہ وہ حارث ہوگا یعنے زمیندار ہوگا۔ اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر یک مسلمان کو چاہیئے کہ اس کو قبول کر لیوے اور اس کی مدد کرے۔ اب سوچو کہ زمیندار ہونا تو میرے صدق کی ایک علامت ہے نہ جائے جرح۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول کرنے کیلئے حکم ہے نہ رد کیلئے۔
چشم بد اندیش کہ برکندہ باد عیب نماید ہنرش درنظر
ہاں مقدمہ بازی آپ کے والد صاحب کی جائے حرج ہو توکچھ تعجب نہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ انگریزی عملداری میں اکثر سود خواروں کی مختار کاری میں ان کی عمر بسر ہوئی اور جس طرح بن پڑا انہوں نے بعض لوگوں کے مقدمے محنتانہ پر لئے۔ گو وہ قانونی طور پر نہ مختار