سےؔ محبت رکھتا ہو وہ بالطبع دروغ سے نفرت رکھتا ہے اور جب کوئی دنیوی فائدہ جھوٹ بولنے پر ہی موقوف ہو تو اس فائدہ کو چھوڑ دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ نجاست خور انسان ہر یک انسان کو نجاست خور ہی سمجھتا ہے۔ جھوٹ بولنے والے ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ بغیر جھوٹ بولنے کے عدالتوں میں مقدمہ نہیں کر سکتے۔ سو یہ قول ان کا اس حالت میں سچا ہے کہ جب ایک مقدمہ باز کسی حالت میں اپنے نقصان کا روادار نہ ہو اور خواہ مخواہ ہر یک مقدمہ میں کامیاب ہونا چاہے۔ مگر جو شخص صدق کو بہرحال مقدم رکھے وہ کیوں ایسا کرے گا جب کسی نے اپنا نقصان گوارا کرلیا تو پھر وہ کیوں کذب کا محتاج ہوگا۔ اب یہ بھی واضح رہے کہ یہ سچ ہے کہ والد مرحوم کے وقت میں مجھے بعض اپنے زمینداری معاملات کے حق رسی کیلئے عدالتوں میں جانا پڑتا تھا۔ مگر والد صاحب کے مقدمات صرف اس قسم کے تھے کہ بعض آسامیاں جو اپنے ذمہ کچھ باقی رکھ لیتی تھیں یا کبھی بلا اجازت کوئی درخت کاٹ لیتی تھی یا جب بعض دیہات کے نمبرداروں سے تعلق داری کے حقوق بذریعہ عدالت وصول کرنے پڑتے تھے اور وہ سب مقدمات بوجہ اس احسن انتظام کے کہ محاسب دیہات یعنے پٹواری کی شہادت اکثر ان میں کافی ہوتی تھی پیچیدہ نہیں ہوتی تھی اور دروغ گوئی کو ان سے کچھ تعلق نہیں تھا کیونکہ تحریرات سرکاری پر فیصلہ ہوتا تھا۔ اور چونکہ اس زمانہ میں زمین کی بے قدری تھی اس لئے ہمیشہ زمینداری میں خسارہ اٹھانا پڑتا اور بسا اوقات کم مقدمات کاشتکاروں کے مقابل پر خود نقصان اٹھا کر رعایت کرنی پڑتی تھی اور عقلمند لوگ جانتے ہیں کہ ایک دیانتدار زمیندار اپنے کاشتکاروں سے ایسا برتاؤ رکھ سکتا ہے جو بحیثیت پورے متقی اور کامل پرہیزگار کے ہو اور زمینداری اور نکوکاری میں کوئی حقیقی مخالفت اور ضد نہیں۔ باایں ہمہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ والد