سیدؔ و مولیٰ حضرت محمد مصطفٰے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو حق پر نہیں سمجھتے اور قرآن شریف کو ربانی کلام تسلیم نہیں کرتے اور ہمارے رسول کریم کو مفتری اور ہمارے صحیفہ پاک کتاب اللہ کو مجموعہ افترا قرار دیتے ہیں اور ایک زمانہ دراز ہم میں اور ان میں مباحثات میں گذر گیا اور کامل طور پر ان کے تمام الزامات کا جواب دے دیا گیا اور جو ان کے مذاہب اور کتب پر الزامات عائد ہوتے ہیں وہ شرطیں باندھ باندھ کر ان کو سنائے گئے اور ظاہر کردیا گیا کہ ان کے مذہبی اصول اور عقائد اور قوانین جو اسلام کے مخالف ہیں کیسے دوراز صداقت اور جائے ننگ و عار ہیں مگر پھر بھی ان صاحبوں نے حق کو قبول نہیں کیا اور نہ اپنی شوخی اور بد زبانی کو چھوڑا آخر ہم نے پورے پورے اتمام حجت کی غرض سے یہ اشتہار آج لکھا ہے جس کا مختصر مضمون ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ صاحبو تمام اہل مذاہب جو سزا جزا کو مانتے ہیں اور بقاء روح اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں اگرچہ صدہا باتوں میں مختلف ہیں مگر اس کلمہ پر سب اتفاق رکھتے ہیں جو خدا موجود ہے۔ اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسی خدا نے ہمیں یہ مذہب دیا ہے اور اسی کی یہ ہدایت ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے اور کہتے ہیں کہ اس کی مرضی پر چلنے والے اور اس کے پیارے بندے صرف ہم لوگ ہیں اور باقی سب مورد غضب اور ضلالت کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں جن سے خدا تعالیٰ سخت ناراض ہے۔ پس جب کہ ہریک کا دعویٰ ہے کہ میری راہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے اور مدار نجات اور قبولیت فقط یہی راہ ہے و بس اور اسی راہ پر قدم مارنے سے خدا تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور ایسوں سے ہی وہ پیار کرتا ہے