اس ؔ کو استحکام کی رو سے کردیتی ہے اور ایک وفادار دل اُس کو بخشتی ہے تب خدا تعالیٰ کے جلال کے لئے وہ کام اس سے صادر ہوتے ہیں اور وہ صدق کی باتیں ظہور میں آتی ہیں کہ انسان کیا چیز ہے اور آدم زاد کیا حقیقت ہے کہ خودبخود ان کو انجام دے سکے وہ بکلّی غیر سے منقطع ہوجاتا ہے اور ماسوا اللہ سے دونوں ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور سب تفاوتوں اور فرقوں کو درمیان سے دور کردیتا ہے اور وہ آزمایا جاتا اور دکھ دیا جاتا ہے اور طرح طرح کے امتحانات اس کو پیش آتے ہیں اور ایسی مصائب اور تکالیف اس پر پڑتی ہیں کہ اگر وہ پہاڑوں پر پڑتیں تو انہیں نابود کر دیتیں اور اگر وہ آفتاب اور ماہتاب پر وارد ہوتیں تو وہ بھی تاریک ہوجاتے لیکن وہ ثابت قدم رہتا ہے اور وہ تمام سختیوں کو بڑی انشراح صدر سے برداشت بے خبری کی و جہ سے ایسے قصہ کو قرآن کریم میں درج کردیا اب سوچنا چاہئے کہ جس کا یہ اعتقاد ہو کہ قرآن کریم میں یہودیوں اور عیسائیوں سے سنی سنائی باتیں لکھی گئی ہیں وہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ میں قرآن کریم کو خدائے تعالیٰ کا کلام جانتا ہوں مگر میرے خیال میں ہے کہ آپ کے دل میں ایسا عقیدہ نہیں ہوگا گو مغربی فلسفہ کا ستارہ کیسا ہی چمکدار آپ کو دکھلائی دیا ہو مگر نعوذ باللہ یہ کب ہوسکتا ہے کہ آپ کی حالت اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ گہرا اور مضبوط عقیدہ اسلام کا جو نہ صرف اسلامی حیثیت سے بلکہ سیادت کی طینت سے بھی آپ کے وجود میں ہے یعنی یہ کہ قرآن کریم کا لفظ لفظ وحی متلو ہے آپ کے دل سے یکلخت اکھڑ گیا ہو۔ اور بجائے اس کے یہ خیال باطل دل میں جم گیا ہو کہ قرآن کریم کے قصص اور اخبارات ماضیہ خالص امور غیبیہ نہیں بلکہ یہودیوں اور عیسائیوں سے لئے گئے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ اگر آپ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ تمام قصّے جو اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن مجید میں حضرت آدم سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک بیان فرمائے ہیں خالص غیب کی خبریں ہیں جو انسان کی