وفا ؔ کا مادہ اِس قدر جوش میں آگیا ہے کہ ہریک مصیبت کا تصور کرنے سے وہ مصیبت آسان معلوم ہوتی ہے اور نہ صرف تصور بلکہ مصائب کے وارد ہونے سے بھی ہریک درد برنگ لذّت نظر آتا ہے تو جب یہ تمام علامات پیدا ہوجائیں تو سمجھنا چاہئے کہ اب پہلی ہستی پر بکلّی موت آگئی۔
اس موت کے پیدا ہوجانے سے عجیب طور کی قوتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں پیدا ہوجاتی ہیں وہ باتیں جو دوسرے کہتے ہیں پر کرتے نہیں اور وہ راہیں جو دوسرے دیکھتے ہیں پر چلتے نہیں اور وہ بوجھ جو دوسرے جانچتے ہیں پر اٹھاتے نہیں ان سب امور شاقہ کی اس کو توفیق دی جاتی ہے کیونکہ وہ اپنی قوت سے نہیں بلکہ ایک زبردست الٰہی طاقت اس کی اعانت اور امداد میں ہوتی ہے جو پہاڑوں سے زیادہ
کہ کسی سے سن کر لکھا ہے تو مجھے تعجب آتا ہے کہ کیونکر آپ اس بات کے مدعی ہوسکتے ہیں کہ قرآن کریم میں امور غیبیہ اور آئندہ اور گزشتہ کی خبریں نہیں کیا یہ خیال کریں کہ نعوذ باللہ آپ کا یہ اعتقاد ہے کہ قرآن کریم میں جو مثلاً یوسف کا قصہ اور اصحاب کہف کا قصہ اور آدم کا قصہ اور موسیٰ کا قصہ وغیرہ وغیرہ قصص موجود ہیں وہ خدا ئے تعالیٰ کی وحی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوئے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں سے سن سنا کر قرآن کریم میں درج کر لئے تھے اگر یہی بات ہے تو بہت سا حصہ قرآن کریم کا اس پاک کلام سے خارج کرنا پڑے گا۔ کیونکہ جو باتیں یہودیوں اور عیسائیوں سے سن کر لکھی گئیں وہ باتیں درحقیقت یہودیوں اور عیسائیوں کا کلام ہوگا نہ کہ خدا تعالیٰ کا کلام اور پھر سخت مشکل یہ پیش آئے گی کہ قرآن کریم توریت کے قصوں سے بہت جگہ مخالف ہے اس صورت میں نعوذ باللہ یہ ماننا پڑے گا کہ جو کچھ شریر یہودیوں نے دھوکہ کی راہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قصہ بیان کیا توآنجناب نے سادگی اور