طماؔ نیت اور تسلی اور سکینت بخشتے ہیں اور اس کلام اور الہام میں فرق یہ ہے کہ الہام کا چشمہ تو گویا ہر وقت مقرب لوگوں میں بہتا ہے اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے اور روح القدس کے دکھائے دیکھتے اور روح القدس کے سنائے سنتے اور ان کے تمام ارادے روح القدس کے نفخ سے ہی پیدا ہوتے ہیں اور یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ وہ ظلّی طور پر اس آیت کا مصداق ہوتے ہیں
33 ۱ ۔لیکن مکالمہ الہٰیہ ایک الگ امر ہے اور وہ یہ ہے کہ وحی متلو کی طرح خدائے تعالیٰ کا کلام ان پر نازل ہوتا ہے اور وہ اپنے سوالات کا خدائے تعالیٰ سے ایسا جواب پاتے ہیں کہ جیسا ایک دوست دوست کو جواب دیتا ہے اور اس کلام کی اگر ہم تعریف کریں تو صرف اس قدر کرسکتے ہیں
حبّ اسلام کا دعویٰ اور قرآن کریم کی تفسیر کرنے کا ولولہ اور نیز متانت اور استقلال اور نیک منشی کا دم بھی مارتا ہو وہ ایسی جلدی ایسی باتیں منہ پر لاوے کہ جو فرقان حمید کی تعلیمات سے بالکل مخالف ہیں مجھے نہایت خوشی ہوتی اگر سید صاحب صرف اسی قدر پر کفایت نہ کرتے کہ مخالفانہ اور غیر معتقدانہ باتیں کہہ کر اور مکالمہ الہٰیہ کے مدعی کو مجنون اور پاگل قرار دے کر چپ ہوجائیں بلکہ جیسا کہ داب اور طریق حق پسندوں اور منصف مزاجوں کا ہے میرے دعاوی کی مجھ سے دلیل طلب کرتے تا اگر میں غلطی پر تھا تو اس غلطی کا صاف طور پر فیصلہ ہوجاتا اور اگر حضرت آپ ہی غلطی پر تھے تو ان کو اپنے اقوال سے رجوع کرنے کا مبارک موقع ملتا بہرحال اس تقریب سے پبلک کو ایک فائدہ پہنچتا اور آج کل جو انہیں مسائل پر قلموں کی کشت خونی ہورہی ہے یہ روز کے جھگڑے طے ہوجاتے مگر مجھے بار بار افسوس آتا ہے کہ اس طریق مستقیم کی طرف سید صاحب نے رخ بھی نہ کیا۔ میں نے بہت سوچا کہ اس کا کیا سبب ہے مجھے
۱ النجم:۴،