جگہؔ رّ بانی اخلاق کا نور بھر دیا جاتا ہے۔ تب وہ بکلّی مبدل ہو کر ایک نئی پیدائش کا پیرایہ پہن لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے سنتا اور خدائے تعالیٰ سے دیکھتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ حرکت کرتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرتا ہے اور اس کا غضب خدائے تعالیٰ کا غضب اور اس کا رحم خدائے تعالیٰ کا رحم ہوجاتا ہے اور اس درجہ میں اس کی دعائیں بطور اصطفاء کے منظور ہوتی ہیں نہ بطور ابتلا کے اور وہ زمین پر حجت اللہ اور امان اللہ ہوتا ہے اور آسمان پر اس کے وجود سے خوشی کی جاتی ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ عطیہ جو اس کو عطا ہوتا ہے مکالمات الہٰیہ اور مخاطبات حضرت یزدانی ہیں جو بغیر شک اور شبہ اور کسی غبار کے چاند کے نور کی طرح اس کے دل پر نازل ہوتے رہتے ہیں اور ایک شدید الاثر لذت اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور اور نئے فلسفہ کو وہ عزت دی جو خدائے تعالیٰ کی پاک اور لاریب کلام کا حق تھا چند ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ سیّد صاحب نے اپنے ایک دوست کے نام جو سیالکوٹ میں رہتے ہیں اس عاجز کی تالیفات کی نسبت لکھا تھا کہ وہ ایک ذرہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتیں یعنی بکلّی صداقت سے خالی ہیں اور نہ صرف اسی قدر بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ سید صاحب نے ایک اخبار میں چھپوا بھی دیا تھا کہ کسی سے الہامی پیشگوئیوں کا ظہور میں آنا یا مکاشفات و مخاطبات الہٰیہ سے مشرف ہونا ایک غیر ممکن امر ہے اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو وہ مجانین میں سے ہے اور ایسے خیالات جنون کے مقدمات میں سے ہیں اور اگر یہ خیالات دل میں راسخ ہوجائیں تو پھر وہ پورا پورا جنون ہے اگرچہ اس وقت مجھ کو ٹھیک ٹھیک یاد نہیں کہ سیّد صاحب کے اپنے الفاظ کیا تھے مگر قریباً ان کا خلاصہ یہی تھا۔ القصہ مجھے ایسے کلمات کے سننے اور پڑھنے سے بہت ہی رنج ہوا کہ سیّد صاحب جیسا ایک آدمی جسے