باہرؔ آجائے یعنی جذبات نفسانی کو کم بلکہ معدوم کر دیوے اور ہویت مطلقہ میں گم ہو جائے اور انسان جہول تھا اس لئے کہ اس میں یہ قوت ہے کہ غیر حق سے بکلی غافل اور نادان ہو جائے اور بقول لا الٰہ الا اللّٰہ نفی ماسوا کی کر دیوے اور ابن جریر بھی جو رئیس المفسرین ہے اس آیت کی شرح میں لکھتا ہے کہ ظلوم اور جہول کا لفظ محل مدح میں ہے نہ ذم میں غرض اکابر اور محققین جن کی آنکھوں کو خدا تعالیٰ نے نور معرفت سے منور کیا تھا وہ اکثر اسی طرف گئے ہیں کہ اس آیت کے بجز اس کے اور کوئی معنے نہیں ہو سکتے کہ انسان نے خدا تعالیٰ کی امانت کو اٹھا کر ظلوم اور جہول کا خطاب مدح کے طور پر حاصل کیا نہ ذم کے طور پر چنانچہ ابن کثیر نے بھی بعض روایات اسی کی تائید میں لکھی ہیں اور اگر ہم اس تمام آیت پر کہ 3
3 33 3
تعلق نہیں پکڑ سکتا کیونکہ حجاب اس فیض سے مانع ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی حکمت نے تقاضا کیا کہ اس کی ارادات کا مظہر اول بننے کے لئے ایک ایسی مخلوق ہو جو محجوب بنفسہ نہ ہو بلکہ اس کی ایک ایسی نرالی خلقت ہو جو برخلاف اور چیزوں کے اپنی فطرت سے ہی ایسی واقع ہو کہ نفس حاجب سے خالی اور خدا تعالیٰ کے لئے اس کے جوارح کی طرح ہو۔ اور خدا تعالیٰ کے جمیع ارادات کے موافق جو مخلوق اور مخلوق کے کل عوارض سے تعلق رکھتے ہیں اس کی تعداد ہو اور وہ نرالی پیدائش کی چیزیں مرایا صافیہ کی طرح اپنی فطرت رکھ کر ہر وقت خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں اور اپنے وجود میں ذوجہتین ہوں۔ ایک جہت تجرد اور تنزّہ کی جو اپنے وجود میں وہ نہایت الطف اور منزہ عن الحجب ہوں جس کی وجہ سے وہ دوسری مخلوق سے نرالی
انسان نو مہینے پیٹ میں رہ کر اپنے کمال وجود کو پہنچتا ہے اور مرنے کے لئے کچھ بھی دیر کی ضرورت نہیں مثلاً انسان اپنے مرنے کے وقت صرف ایک ہی ہیضہ کا دست یا تھوڑا سا پانی قے کے طور پر نکال کر راہی ملک بقاہوجاتا ہے اور وہ