ماسوؔ ا اس کے اس معنے کے کرنے میں یہ عاجز متفرد نہیں بڑے بڑے محقق اور فضلاء نے جو اہل زبان تھے یہی معنے کئے ہیں چنانچہ منجملہ ان کے صاحب فتوحات مکیہ ہیں جو اہل زبان بھی ہیں وہ اپنی ایک تفسیر میں جو مصر کے چھاپہ میں چھپ کر شائع ہوئی ہے یہی معنے کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے زیر تفسیر آیت 333۔۱؂ یہی معنے لکھے ہیں کہ یہ ظلوم و جہول مقام مدح میں ہے اور اس سے مطلب یہی ہے کہ انسان مومن احکام الٰہی کی بجا آوری میں اپنے نفس پر اس طور سے ظلم کرتا ہے جو نفس کے جذبات اور خواہشوں کا مخالف ہوجاتا ہے اور اس سے اس کے جوشوں کو گھٹاتا ہے اور کم کرتا ہے ۔اور صاحب تفسیر حسینی خواجہ محمد پارسا کی تفسیر سے نقل کرتے ہیں کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ انسان نے اس امانت کو اس لئے اٹھا لیا کہ وہ ظلوم تھا یعنی اس بات پر قادر تھا کہ اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے ہوں اور آنکھ میں چکانے سے رمد بارد کو دور کر دیتی ہوں اور احلیل میں چکانے سے نافع حبس البول ہوں اور مشک وغیرہ ادویہ مناسبہ کے ساتھ باہ کیلئے سخت موثر ہوں اور صرع اور سکتہ اور فالج اور لقوہ اور استرخاء اور رعشہ اور خدر اور اس قسم کی تمام امراض کو نافع ہوں اور اعصاب اور دماغ کے لئے ایک اکسیر ہوں اور اگر میں نہ ملوں تو اکثر باتوں میں زرنباد میرا قائم مقام ہے۔ غرض یہ تمام چیزیں بزبان حال اپنی اپنی تعریف کر رہی ہیں اور محجوب بانفسہا ہیں یعنی اپنے خواص کے پردہ میں محجوب ہیں اس لئے مبدء فیض سے دور پڑ گئی ہیں اور بغیر ایسی چیزوں کے توسط کے جو اِن حجابوں سے منزہ ہوں مبدء فیض کا کوئی ارادہ ان سے دنیا میں اپنے قضا و قدر کو جلد بھی نازل کرتا ہے اور دیر سے بھی۔ ہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صفات قہریہ اکثر جلدی کے رنگ میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور صفات لطیفہ دیر اور توقف کے پیرایہ میں مثلاً ان معنوں کے کرنے میں یہ عاجز متفرد نہیں ہے ۱؂ الاحزاب: