جوؔ بعض اوقات دحیہ کلبی کی صورت میں یا کسی اور انسان کی صورت میں ہوتا تھا اس میں اہل نظر کو اشکال ہے اور یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر درحقیقت جبرائیل علیہ السلام ایک نیا جسم اپنے لئے مشابہ جسم دحیہ کلبی حاصل کر کے اس میں اپنا روح داخل کر دیتے تھے تو پھر وہ اصلی جسم انکا جس کے تین۳۰۰ سو جناح ہیں کس حالت میں ہوتا تھا کیا وہ جسد بے روح پڑا رہتا تھا اور حضرت جبرائیل فوت ہو کر پھر بطریق تناسخ دوسرے جسم میں آ جاتے تھے۔ اس کے جواب میں وہ لکھتے ہیں کہ اہل تحقیق کے نزدیک یہ تمثلی نزول ہے نہ حقیقی تا حقیقتاً ایک جسم کو چھوڑنا اور دوسرے جسم میں داخل ہونا لازم آوے۔ پھر لکھتے ہیں بات یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے ذہن میں جو دحیہ کلبی کی صورت علمیہ تھی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام بوجہ قدرت کاملہ و اردات شاملہ اپنی کے اس صورت پر اپنے وجود قرار دیا ہے کہ عللِ مادیہ اور اسبابِ عادیہ اِن چیزوں کے دریافت کر کے نظامِ ظاہری کا ایک باقاعدہ سلسلہ مقرر کردیا جائے۔ لیکن قرآن کریم میں روحانی نظام کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک فعل اُس کے دوسرے فعل کا مزاحم نہیں ہوسکتا پس کیا یہ تعجب کی جگہ ہوسکتی ہے کہ جسمانی اور روحانی نظام خدا تعالیٰ کی قدرت سے ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں بالخصوص جس حالت میں ہمیشہ ربّانی مصلح دنیا میں آتے رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے ارادوں کی حرکت شروع رہتی ہے اور کوئی صدی ایسی نہیں آتی کہ جو دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں اِن اُمور میں سے کسی امر کا ظہور نہ ہو تو اس بات کے ماننے کیلئے ذرہ بھی استبعاد باقی نہیں رہتا کہ کثرت شہب وغیرہ روحانی طور پر ضرور خدا تعالیٰ کے اِس روحانی انتظام کے تجدد اور حدوث پر دلالت کرتے ہیں جو الٰہی دین کی تقویت کیلئے ابتداء سے چلا آتا ہے خاص کر جب اس بات کو ذہن میں خوب یاد رکھا جائے کہ کثرت سقوطِ شہب وغیرہ صرف اسی امر سے براہ راست شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی کی اپنی یہ ذاتی رائے ہے کہ حق بات یہی ہے کہ حضرت جبرائیل اپنے اصلی وجود کے ساتھ وحی لے کر ہرگز نازل نہیں ہوتے اور نہ زمین ان کے اصلی وجود کی گنجایش رکھتی ہے بلکہ تمام محقق اسی طرف گئے ہیں کہ جبرائیلؑ آسمان پر ہی رہتے ہیں اور زمین پر وہ اپنی تمثلی صورت کو ظاہر کر دیتے ہیں جیسے مکمل اولیاء کی یہ کرامت ثابت ہوئی کہ انہوں نے ایک جگہ رہ کر دوسری جگہ تمثلی طور پر اپنے وجود کو دکھلادیا ہے اور لکھتے ہیں کہ جبرائیل پر کچھ موقوف نہیں تمام ملائکہ کا نزول درحقیقت تمثلی طور پر ہی ہوتا ہے او ر وہ اپنے اصلی مقامات کو نہیں چھوڑتے اور تمثلی طور پر زمین پر بھی نظر آ جاتے ہیں جیسے حضرت جبرائیل مریم صدیقہ کو تمثلی طور پر نظر آ گئے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے 3۔۱؂ ؂ مریم :۱۸ بقیہ حاشیہ