کیوؔ نکہ کسی وقت چھوڑ کر چلا جانا دوام قرب اور معیت غیر منقطع کے منافی ہے لیکن جب ان بزرگوں کا دوسرا عقیدہ بھی دیکھا جائے کہ جبرائیل علیہ السلام کا قرار گاہ آسمان ہی ہے اور وہ ہر ایک وحی آسمان سے ہی لاتا ہے تو اِن دونوں عقیدوں کے ملانے سے جو تناقض پیدا ہوتا ہے اِس سے رہائی پانے کے لئے بجُز اِس کے اور کوئی راہ نہیں مل سکتی کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ جبرائیل علیہ السلام کا آسمان سے اترنا حقیقی طور پر نہیں بلکہ تمثلیہے اور جب تمثلی طور پر اترنا ہوا تو اِس میں کچھ حرج نہیں کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے تمثلی وجود سے ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر دم اور ہر طرفۃ العین انبیاء علیہم السلام کے ساتھ رہے کیونکہ وہ اپنے اصلی وجود کے ساتھ تو آسمان پر ہی ہے اور اِسی مذہب کی تصدیق اور تصویب شیخ عبدالحق محدّث دہلی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ کے صفحہ ۴۵ میں کی ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ نزول جبرائیل
بارے میں اب تک دریافت کیا ہے وہ سب یقینی ہے ہمیں تو اُن کے اکثر معلومات کا ظنّی مرتبہ ماننے میں بھی شرم آتی ہے کیونکہ اب تک اُن کے خیالات میں بے اصل اور بے ثبوت باتوں کا ذخیرہ بڑھا ہوا ہے۔ اس وقت امام رازی رحمۃ اللہ کا یہ قول نہایت پیارا معلوم ہوتا ہے کہ من اراد ان یکتال مملکۃ الباری بمکیال العقل فقد ضلّ ضلالاًبعیدًا۔ یعنی جو شخص خداتعالیٰ کے ملک کو اپنی عقل کے پیمانہ سے ناپنا چاہے تو وہ راستی اور صداقت اور سلامت روی سے دور جا پڑا۔
اب اِس عاجز پر خداوند کریم نے جو کچھ کھولا اور ظاہر کیا وہ یہ ہے کہ اگر ہیئت دانوں اور طبعی والوں کے قواعد کسی قدر شہب ثاقبہ اور دُمدار ستاروں کی نسبت قبول بھی کئے جائیں تب بھی جو کچھ قرآن کریم میں اللہ جلّ شانہٗ و عزّ اسمہ‘نے اِن کائنات الجوّ کی روحانی اغراض کی نسبت بیان فرمایا ہے اُس میں اور ان ناقص العقل حکماء کے بیان میں کوئی مزاحمت اور جھگڑا نہیں کیونکہ ان لوگوں نے تو اپنا منصب صرف اس قدر
شیخ عبدا الحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ میں اسی مذہب کی تصدیق اور تصویب کی ہے کہ جبرائیل ؑ وحی لے کر آسمان سے اپنے وجود اصلی کے ساتھ اترتا نہیں بلکہ وہ ہمیشہ آسمان پر اپنی قرارگاہ میں ثابت اور قائم رہتا ہے ہاں اُس کی تمثلی صورت بقدرت حق تعالیٰ نمودار ہو جاتی ہے اور اس کی تبلیغ وحی کرتی ہے۔