بھیؔ آپ انہیں القاب سے ملقب کریں تو دراصل مجھے خوشی کرنی چاہئے کہ جو کچھ امام صاحب کی نسبت آپ کی زبان نے حق درازی کا دکھلایا وہی باتیں میرے حق میں بھی ظہور میں آئیں۔
قولہ۔ شاید آپ کہیں گے کہ احادیث سبھی بالمعنی روایت ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کے مقتدا سید احمد خاں نے کہا ہے جس کی تقلید سے آپ نے قرآن کو معیار صحت احادیث ٹھہرایا۔
اقول۔ یہ آپ کا سراسر افترا ہے کہ سید احمد خاں کو اس عاجز کا مقتدا ٹھہراتے ہیں۔ میرا مقتدا اللہ جلّ شانہٗ کا کلام ہے اور پھر اس کے رسول کا کلام۔ میں نے کس وقت کہا ہے کہ احادیث سبھی بالمعنی روایت ہوتی ہیں؟ بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ حتی الوسع صحابہ اہتمام حفظ اصل الفاظ نبی علیہ السلام کیلئے ساعی تھے تاہر یک شخص ان متبرک الفاظ پر غور کرسکے اور نبی علیہ السلام کا اصل مطلب سمجھنے کیلئے وہ الفاظ مؤیّد ہوں ہاں ان کی روایتوں پر اور ایسا ہی دوسروں کی روایت پر اعتماد کامل کرنے کیلئے سلامت فہم ضروری شرط ہے کیونکہ اگر فہم میں بباعث پیرانہ سالی یا اختلال دماغ کے کوئی آفت پیدا ہوجائے تو مجرد حفظ
کہؔ اس کی حقیقی عزت اور بلا اشتراک عزت اس سے چھین کر اور اور غیر معصوم کتابوں کو دی گئی ہے اس ناقابل مغفرت شرک مٹانے کیلئے آئے ہیں۔ خاکسار کے روبرو بڑی مجلس میں حضور نے فرمایا تھا کہ اگر دنیا کی تمام کتابیں۔ فقہ۔ حدیث۔ علم کلام وغیرہ وغیرہ جو انسان کی تمدنی- معاشرتی مجلسی اور سیاسی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں اور جنہیں لوگ ضروری اور لابدی کہتے ہیں بالفرض دنیا سے یک قلم اٹھادی جائیں۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں اللہ کی مدد و توفیق سے ان تمام ضروریات اور متجددہ احتیاجات کو قرآن کریم سے استنباطاً پورا کر کے دکھا دوں گا۔ سبحان اللہ! واقعی آپ کا دعو ٰی بجا دیکھا گیا ہے۔ امید ہے کہ براہین احمدیہ اور بالآخر ازالہ اوہام کے پڑھنے والے اس دعوے کی تصدیق میں ذرا بھی تذبذب نہ دکھائیں گے- کہاں اور کس تفسیر و کتاب میں وہ عجائب نکات و دقائق ہیں جو اس مجدد۔ محدث اور جری اللہ نے قرآن کریم سے نکال کر دکھائے ہیں؟ یہ الزام تراشنا کہ امام ہمام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف حنفیوں کو خوش کرنے کیلئے کی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس کے جواب سے اعراض کیا جاوے۔ اس لئے کہ ہر ایک عقل مند جانتا ہے کہ مرزا صاحب اپنے بلند اور سچے دعاوی سے کہاں تک ملل و نحل کو خوش کررہے ہیں۔(ایڈیٹر(