ہیںؔ جو تم فن حدیث سے محض ناآشنا ہو کچھ آپ پر افسوس نہیں کرتا کیونکہ جس حالت میں آپ اس استخفاف کی عادت سے ایسے مجبور ہیں کہ امام بزرگ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی جنہوں نے بعض تابعین کو بھی دیکھا تھا اور جو علم دین کے ایک دریا تھے آپ کی تحقیر سے بچ نہیں سکے*اور آپ نے ان کی نسبت بھی کہہ دیا کہ باوجود قرب مکان اور زمان حدیث نبوی کے پانے سے محروم رہے اور ناچاری سے قیاسی اٹکلوں پر گزارہ رہا تو پھر اگر مجھے
علم کی(جس پر بوجہ امتداد زمانہ اور اختلافات فرق اور بنی عباس اور بنی امیہ‘ بنی فاطمہ کی باہمی خانہ جنگیوں اور بغض و معاندت کی سخت تاریکی چھاگئی تھی) تحقیق و تنقید کیلئے جودت فہم سے نہ الہام الٰہی اور وحی سے اصول اور قواعد تراشے۔ بنا برآں ہرگز ضروری نہیں کہ ایک مؤ یّد من اللہ اور ملہم اور صاحب الوحی شخص کو انکی پابندی لازمی ہو۔ ایڈیٹر
* ٹھیک اسی طرح پر جس طرح جناب مسیح علیہ السلام کی نسبت سنگدل یہود نے نہایت حقارت سے ذکر کرنا اور ان پر ناگفتہ بہ الزامات لگانے کا سلسلہ جاری کررکھا تھا اور کوئی بھی صاحب بصیرت اور غیرت کا حامی ایسا نہ تھا جو جناب روح اللہ کی عزت و آبرو کو ان بے ایمانوں کے ہاتھ سے بچانے کی کوشش کرتا اور آخر کار بنی آدم کا ایک حقیقی خیر خواہ اور تمام راستبازوں کا زبردست حامی (اللّٰھم صل علیہ وعلی آلہ واجعلنی فداہ ووفقنی لاشاعۃ ماجاء بہ صَلَّی اللّٰہ علیہ وسلم دنیا میں آیا جس نے ۱ کی بشارت سنا کر ان کی کھوئی ہوئی عزت کو پھر بحال کیا۔ امام ابوحنیفہ ؒ کی سخت بے عزتی۔ سخت حقارت۔ سخت ہتک اس سنگدل۔ خشک اور بے مغز گروہ(غیر مقلدین) نے اپنی تحریرات و تقریرات میں کی۔ ان کے علم و فضل۔ ان کی کتاب و سنت کی واقفیت پر بڑی جرأت سے نکتہ چینیاں کیں۔ آخر اسی احمدؐ۔ محمدؐ (علیہ افضل الصلوات و التسلیمات) کا خادم اور سچا خادم آیا اور ایک خدا کے برگزیدہ بندے۔ حقیقی متبع السنہ کی عزت وآبرو کو چند بے باک شوخوں شیخوں کی دست برد سے بچایا۔ اور یہ بات قدرتی طور پر اس لئے ہوئی کہ اس مسیح موعودعلیہ السلام کو حضرت امام ہمام ابوحنیفہ سے ایک زبردست مشابہت اور تامہ ملابست ہے کیونکہ جناب امام رحمۃ اللہ بھی قرآن کریم سے استنباط و استخراج مسائل کے کرنے میں ممتاز ملکہ اور خاص خداداد استعداد رکھتے تھے اور تابمقدور تمام مسائل و واقعات پیش آمدہ کا مدار و مناط قرآن کریم ہی کو بناتے تھے اور بہت کم اور نہایت ہی کم احادیث کی طرف بوجہ ان کے غیر محفوظ ہونے اور اضطراب و ضعف کے توجہ کرتے تھے۔ ایسا ہی ہمارے مرشد وہادی حضرت مرزا صاحب بھی قرآن کریم سے دقائق و معارف اور علوم الٰہیہ کے استنباط کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں اور قرآن کریم کے ساتھ جو شرک کیا گیا ہے۔