۱ یعنی قرآن کے ذریعہ سے سلامتی کی راہوں کی ہدایت ملتی ہے اور لوگ ظلمت سے نور کی طرف نکالے جاتے ہیں وہ ہر ایک اندرونی بیماری کو اچھا کرتاہے۔ خدا نے ایک ایسا پانی اُتارا ہے جس سے مردہ زمین زندہ ہو رہی ہے ایسا پانی اُتارا جس سے ہر ایک وادی میں بقدر اپنی وسعت کے بہہ نکلا ہے۔ ایسا پانی اُتارا جس سے گلی سڑی ہوئی زمین سرسبز ہوگئی۔ اس سے خدا خوف بندوں کی جلدیں کانپتی ہیں۔ پھر ان کی جلدیں اور ان کے دل ذکر الٰہی کیلئے نرم ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھو کہ قرآن سے دل اطمینان پکڑتے ہیں جو لوگ قرآن کے تابع ہو جائیں اُن کے دلوں میں ایمان لکھا جاتا ہے اور روح القدس انہیں ملتا ہے۔ روح القدس نے ہی قرآن کو اُتارا تا قرآن ایمانداروں کے دلوں کو مضبوط کرے اور مسلمین کیلئے ہدایت اور بشارت کا نشان ہو۔ ہم نے ہی قرآن کو اُتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، یعنی کیا صورت کے لحاظ سے اور کیا خاصیت کے لحاظ سے ہمیشہ قرآن اپنی حالت اصلی پر رہے گا اور الٰہی حفاظت کا اس پر سایہ ہوگا۔ پھر فرمایا کہ قرآن میں تمام معارف و حقائق و صداقتیں ہیں جو حقّانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ اور اس کی مثل بنانے پر کوئی انسان و جن قادر نہیں اگرچہ اس کام کیلئے باہم ممدومعاون ہو جائیں۔