وہم اور اضطراب کے دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ایسا ہی نشان چاہتے ہو جو تمہارے وجودوں پر وارد ہو جائے تو پھر عذاب کے نشان کی کیا حاجت ہے؟ کیا اس مدّعا کے حاصل کرنے کے لئے رحمت کا نشان کافی نہیں؟ یعنی قرآن شریف جو تمہاری آنکھوں کو اپنی پُر نور اور تیز شعاعوں سے خیرہ کر رہا ہے اور اپنی ذاتی خوبیاں اور اپنے حقائق اور معارف اور اپنے فوق العادت خواص اس قدر دکھلا رہا ہے جس کے مقابلہ و معارضہ سے تم عاجز رہ گئے ہو اور تم پر اور تمہاری قوم پر ایک خارق عادت اثر ڈال رہا ہے* اور دلوں پر وارد ہو کر عجیب در عجیب تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔ مدتؔ ہائے دراز کے مردے اس سے زندہ
یہؔ تمام خارق عادت خاصیتیں قرآن شریف کی، جن کی رو سے وہ معجزہ کہلاتا ہے ان مفصلہ ذیل سورتوں میں بہ تفصیل ذیل کہتے ہیں۔ سورۃ البقرۃ ، سورۃ اٰل عمران، سورۃ النساء، سوؔ رۃ المائدہ، سورۃ الانعام، سورۃ الاعراف، سورۃ الانفال، سورۃ التوبۃ، سورۃ یونس، سورۃ ھود، سورۃ الرعد، سورۃ ابراہیم،
سورۃ الحجر، سورۃ الواقعہ، سورۃ النمل، سورۃ الحج، سورۃ البیّنہ، سورۃ المجادلۃ چنانچہ بطور نمونہ چند آیات یہ ہیں فرماتا ہے عزّوجلّ۔