روپیہ محمد صاحب عرب ابھی ارسال خدمت ہیں اور مابعد میں عنقریب ایک سو روپیہ یا اس سے دس بیس روپیہ زائد بھیجتا ہوں یا جلد تر خود لے کر باریاب خدمت ہوں گا ورنہ منی آرڈر بھیج دوں گا۔ ( ایک سو روپیہ پہنچ گیا) حکیم صاحب موصوف پہلے بھی تخمیناً سات سو روپیہ امداد کے طور پر دے چکے ہیں۔ خلاصہ خط اخویم حضرت مولوی حکیم نورِ دین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ معالج ریاست جموں نحمدہ و نصلّی علیٰ رسولہ الکریم معالتسلیمامابعد ایک خاکسار بالکل نابکار اور خاکساری کے ساتھ نہایت ہی شرمسار بحضور حضرت مسیح الزمان عرض پرداز۔ اس خادم بااخلاص اور دلی مرید کا جو کچھ ہے بتمامہ آپ ہی کا ہے۔ زن و فرزند روپیہ آبرو وجان۔ میریؔ یہی سعادت ہے کہ تمام خرچ میرا ہو پھر جس قدر حضور پسند فرماویں۔ برادرم فصیح بھی اس وقت موجود ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر میرے مطبع پنجاب پریس سیالکوٹ میں حضور رسالہ کو طبع فرماویں تو چہارم حصہ قیمت کا منافع رہے گا۔ مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور للہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں۔ کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی یا ان میں جن کے دلوں پر ان کی صحبت کا اثر ہے مولوی صاحب موصوف اب تک تین ہزار روپیہ کے قریب ِ للہ اس عاجز کو دے چکے ہیں اور جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں۔ اگرچہ یہ طریق دنیا اور معاشرت کے اصولوں کے مخالف ہے مگر جو شخص خدائے تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لا کر اور دین اسلام کو ایک سچا اور منجانب اللہ دین سمجھ کر اور باایں ہمہ اپنے زمانہ کے امام کو بھی شناخت کر کے اللہ جلّ شانہٗ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن کریم کی محبت اور عشق میں فانی ہو کر محض اعلاء کلمہ اسلام کیلئے اپنے مال حلال اور طیّت کو اس راہ میں فدا کرتا ہے اس کا جو عنداللہ قدر ہے وہ ظاہر ہے اللہجلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱ ؂ خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب اُسے دے چکے مال و جان بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار