ہے۔ اس اشتہار کے پڑھنے پر جو صاحب چندہ کیلئے طیار ہوں وہ اس عاجز کو اطلاع دیں۔
والسلام علی من اتبع الھدٰی
المشتہر
غلام احمد از قادیان
۲۶؍ مئی ۱۸۹۲ء
رسالہنشانِ آسمانی
کی امداد طبع کیلئے جو مخلص دوستوں کی طرف خط لکھے گئے تھے ان کا خلاصہ جواب
خلاصہ خط اخویم مولوی سیّد تفضل حسین صاحب تحصیلدار علی گڑھ ضلع فرخ آباد سلمہ اللہ تعالیٰ
’’۲دو والاؔ نامے بندگان عالی شرف و رد ولائے باعث عزت ہوئے مجھ کو بہت شرم ہے کہ عرصہ سے میں نے کوئی عریضہ حضور میں نہیں بھیجا مگر ہر وقت یاد بندگان والا میں رہا کرتا ہوں۔ حضور کا نام نامی میرا وظیفہ ہے اور اکثر حضور کی کتب دیکھا کرتا ہوں اور ان کو ذریعہ بہتری دارین سمجھتا ہوں پچاس جلد رسالہ نشان آسمانی یا جس قدر حضور خود چاہیں میرے پاس بھجوادیں میں ان کو خرید لوں گا اور اپنے دوستوں میں تقسیم کردوں گا مجھے حضور کی کتابوں کی اشاعت سے دلی خوشی پہنچتی ہے اور میرے سب اہل وعیال خوش اور اچھے ہیں اور حضور کو یاد کیا کرتے ہیں۔
عریضہ نیاز کمترین تفضل حسین از علی گڑھ ضلع فرخ آباد ۳۱ مئی ۲ ۱۸۹ ء
مولوی صاحب موصوف چندہ امدادی دیتے ہیں اور امداد کے طور پر اپنی تنخواہ میں سے رقم کثیر دے چکے ہیں۔
خلاصہ خط اخویم نواب محمد علی خان رئیس کوٹلہ مالیر سلمہ اللہ تعالیٰ
جناب کا عنایت نامہ پہنچا۔ بندہ رسالہ نشان آسمانی کی دو۲ سو جلد فی الحال خرید کر ے گا۔ راقم محمد علی خان
نواب صاحب موصوف ابھی تھوڑا عرصہ ہوا کہ پانچسو روپیہ کی کتابیں اس عاجز کی خرید کر کے محض ِ للہ تقسیم کرچکے ہیں۔
خلاصہ خط اخویم حکیم فضل دین صاحب بھیروی سلمہ اللہ تعالیٰ
سات ۷۰۰سو جلد رسالہ نشان آسمانی نابکار کے خرچ سے چھپوایا جائے اور فروخت کیا جائے اور اس کی قیمت حضور اپنی مرضی سے جہاں چاہیں خرچ فرمائیں بیس۲۰ روپیہ معہ بقیہ چندہ دو۲