اشعار یہ ہیں
موجبِ کفر است تکفیر تو ای کانِ کرم
واین مواہیر و فتاوے رہزنِ راہ ارم
آرزو دارم کہ جان و مال قربانت کنم
این تمنایم برآرد کار ساز قادرم
چون بتابم رو ز تو حاشا وکلا این کجا
من فداے روے تو ای رہبرِ دین پرورم
دین مردہ را بقالب جان درآمد از دمت
چون ازین انفاس اعراضی کنم ایم مہترم
من کجا وایں طور بدعہدی و بیراہی کجا
خادمم تازندہ ہستم و از دل و جان چاکرم
حملہ ہاکردند ایں غولانِ راہِ حق بہ من
رہ زدندی گرنبودے لطفِ یزدان رہبرم
ایں یہودی سیرتان قدر ترا نشناختند
چوں نبیّناصری نفرین شنیدی لاجرم
ہر کہ تکفیرت کند کافر ہمان ساعت شود
حق نگہدارد مرازین زمرۂ نا محترم
برمن اعمی بہ بخش ای حضرت مہر منیر
گر خطا دیدی ازاں بگذرکہ من مستغفرم
تار وانم ہست درتن از دل و جانم غلام
لطف فرما کز تذلّل بر در تو حاضرم
نورِ ماہِ دینِ احمد بر وجودت شد تمام
آمدی درچاردہ اے بدر تام و انورم
حسب تبشیر نبی بروقتِ خود کردی ظہور
السلام ای رحمتِ ذات جلیل و اکبرم
مشکلاتِ دینِ حق بردست تو آسان شدند
مے کنی تجدید دین از فضل رب ذوالکرم
از رہِ منت درونم را مسلماں کردۂ
گرنباشم جان نثار آستانت کافرم
راقم خاکسار مولوی حافظ عظیم بخش پیٹالوی۔۲۴؍ مئی ۱۸۹۲ ء
اگر کوئی جگہ حضور کے رسالہ میں خالی ہووے تو یہ اشتہار مندرجہ ذیل میرے مکرم و شفیق استاد کا بھی طبع فرما کر ممنون فرمائیں
اشتہار
جو فتویٰ بحق امامنا۔ مخدومنا- مسیحنا و مسیح الدنیا میرزا غلام احمد صاحب قادیانی۔ محمد حسین بٹالوی۔ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا ہے۔ اس کے علماء پٹیالہ کی فہرست میں میرے بعض احباب نے میرے ہم نام مولوی عبداللہ پٹیالوی کے نام کو میرا نام خیال کیا ہے۔ اور ؔ بعض نے دریافت کیلئے میرے نام عنایت نامہ جات بھی ارسال فرمائے ہیں۔ ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے ناظرین کو اور بھی شبہ میں ڈالا کہ اس نام پر یہ نوٹ ایزاد کیا کہ’’ یہ مولوی صاحب بھی میرزا صاحب کے پہلے معتقد تھے‘‘۔ لہٰذا میں جمیع احباب کو اطلاع دیتا ہوں کہ مولوی عبداللہ پٹیالوی اور شخص ہیں اور وہ کبھی پہلے مرزا صاحب کے معتقدنہ تھے اور نہ ہیں۔ باقی رہا نیاز مند سو میں اسی طرح اس فدائے قوم و کشتہ اسلام کا معتقد و نیازمند ہوں۔
المشتہر
خاکسار محمد عبداللہ خاں. دوم مدرس عربی
مہندر کالج پٹیالہ۔ ۴؍ ذیعقدہ ۱۳۰۹ ھ