نذیر حسین اور شیخ بٹالوی نے اس تکفیر میں جعل سازی سے بہت کام لیا ہے اور طرح طرح کے افترا کر کے اپنی عاقبت درست کر لی ہے اس مختصر رسالہ میں ہم مفصّل ان خیانتوں کا ذکر نہیں کرسکتے جو شیخ بٹالوی نے حسب منشاء شیخ دہلوی اپنے کفرنامہ میں کام میں لا کر اپنا نامہ اعمال درست کیا ہے۔ صرف بطور نمونہ ایک مولوی صاحب کا خط معہ ان کے اشعار کے ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔ بحضور فیض گنجور حضرت مجدّد وقت مسیح الزمان مہدی دوران حضرت مرزا غلام احمد صاحب دام برکاتہ پس از سلام سنت اسلام گذارش حال اینکہ۔ غریب نواز پٹیالہ سے حضور کے تشریف لے جانے کے بعد سکنائے بلدہ نے مجھ کو نہایت تنگ کیا یہاں تک کہ مساجد میں نماز اداکرنے سے بند کیا گیا میں نے اپنے بعض دوستوں کو ناحق کا الزام دور کرنے کیلئے یہ لکھ دیا کہ میرا عقیدہ اہلسنت والجماعت کے موافق ہے اور انکار ختم نبوت اور وجود ملائکہ و معجزات انبیاء ولیلتہ القدر وغیرہ موجب کفر والحاد سمجھتا ہوں۔ وہی تحریر میری مولوی محمد حسین مہتمم اشاعۃ السنۃ نے لے کر اپنے کفر نامہ میں جو آپ کیلئے تیار کیا تھا درج کردی میں نے خبر پا کر مولوی محمد حسین صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ جو میری طرف سے فتویٰ تکفیر پر عبارت لکھی گئی ہے وہ کاٹ دینی چاہئے کیونکہ میں حضرت مرزا صاحب کے مکفر کو خود کافرو ملحد سمجھتا ہوں۔ مولوی صاحب نے اس کا کوئی جواب نہیں بھیجا پیچھے سے مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے میرا نام مکفرین کے زمرہ میں چھاپ کر شائع کردیا۔ سو میرے فتوے کی یہ حقیقت ہے۔ یہ نالائق حضور سے بیعت ہوچکا ہے ِ للہ اس عاجز کو اپنی جماعت سے خارج تصور نہ فرماویں۔ میں اس ناکردہ گناہ سے خدا وند تعالیٰ کی درگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور حضور سے معافی مانگتا ہوں اور چند ابیات محبت اور عقیدت کے جوش سے میں نے حضور کے بارہ میں تالیف کئے ہیں وہ بھی ذیل میں تحریر کرتاؔ ہوں۔ اور امیدوار ہوں کہ میری یہ تمام تحریر معہ اشعار کے طبع کرا کر شائع کردی جاوے۔