یا دیر سے رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے مگر اوائل میں قحط اور وبا وغیرہ کی تنبیہیں بھی اترا کرتی ہیں اور اہل کشف انجام کا حال بیان کرتے ہیں نہ ابتدائی واقعات کا۔ بادشاہ تمام ہفت اقلیم شاہ عالی تبار می بینم یعنی مجھ کو کشفی نظر میں وہ ایک شاہ عالی خاندان ہفت اقلیم کا بادشاہ نظر آتا ہے۔ یہ مطابق اس پیشگوئی کے ہے جو ازالہ اوہام میں درج ہوچکی ہے اور وہ یہ ہے:۔ حکم اللّٰہ الرَّحمٰنِ لِخَلِیفۃ اللّٰہِ السُّلطَان سیؤتی لہ الملک العظیم الخیہ اس عاجز کی نسبت الہام ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ خلیفۃ اللہ بادشاہ جس کو ایک ملک عظیم دیا جائے گا اور جس پر زمین کے خزانے کھولے جائیں گے۔ اس بادشاہی سے مرادؔ اس دنیا کی ظاہری بادشاہی نہیں بلکہ روحانی بادشاہی ۱؂ہے۔ مہدیِء وقت و عیسیٰ دوران ہر دو را شہسوار می بینم یعنی وہ مہدی بھی ہوگا اور عیسیٰ بھی دونوں صفات کا حامل ہوگا اور دونوں صفات سے اپنے تئیں ظاہر کرے گا یہ آخری بیت عجیب تصریح پر مشتمل ہے جس سے صاف طور پر سمجھا جاتا ہے کہ وہ خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے حکم پا کر عیسیٰ ہونے کا بھی دعویٰ کرے گا اور ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ تیرہ ۱۳۰۰سو برس سے آج تک کسی نے بجز اس عاجز کے نہیں کیا کہ عیسیٰ موعود میں ہوں۔ یہ چند اشعار ہیں جو ہم نے نعمت اللہ ولی کے قصیدہ سے جو طول طویل ہے برعایت اختصار لکھے ہیں ہر ایک کو چاہئے جو اپنی تسلی کیلئے اصل ابیات کو دیکھ لے۔ وَالسَّلام علٰی من اتَّبع الھُدٰی ۱؂ حضرت عیسیٰ کی نسبت بھی پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ بادشاہ ہوگا اور اسکے ساتھ لشکر ہوگا مگر آخر مسیح غریبوں اور مسکینوں کے لباس میں ظاہر ہوا اور یہودی بوجہ نہ پائے جانے ظاہری نشانوں کے منکر ہوگئے۔ ۱۲