یدِبیضا کہ با او تابندہ باز با ذوالفقار می بینم یعنی اس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمام کے حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں یعنی ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گذر گیا کہ جب ذوالفقار علی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْھَہٗ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دے دے گا اس طرح پر کہ اسکے چمکنے والا ہاتھ وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی۔ سو وہ ہاتھ ایسا ہوگا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ ہے جو پھر ظاہر ہوگئی ہے یہ اس بات کی طرف اشارؔ ہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہوگا اور اس کی قلم ذوالفقار کا کام دے گی یہ پیشگوئی بعینہٖ اس عاجز کے اس الہام کا ترجمہ ہے جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کتاب الولی ذوالفقار علی۔ یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔ یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے۔ اسی بناء پر بارہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کے بعض دیگر مقامات میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ غازی دوست دار دشمن کش ہمدم و یارِغار مے بینم وہ خداتعالیٰ کی طرف سے ایک غازی ہے دوستوں کو بچانے والا اور دشمنوں کو مارنے والا۔ صورت و سیرتش چو پیغمبر علم و حلمش شعارمے بینم یعنی ظاہرو باطن اپنا نبی کی مانند رکھتا ہے اور شان نبوت اس میں نمایاں ہے اور علم اور حلم اس کا شعار ہے مراد یہ کہ بباعث اپنی اتباع نبی کریم کے گویا وہی صورت اور وہی سیرت اس کو حاصل ہوگئی ہے یہ اس الہام کے مطابق ہے جو اس عاجز کے بارے میں براہین میں چھپ