کی خبر نہ صرف ان کو پیش از وقت پہنچائی گئی تھی بلکہ صدہا آدمیوں میں مشہور کی گئی تھی۔ ایسا ہی صدہا نشان ہیں جن کے گواہ موجود ہیں۔ کیا ان دیندار مولویوں نے کبھی ان نشانوں کا بھی نام لیا جس کے دل پر خدا تعالیٰ مہر کرے اس کے دل کو کون کھولے۔ اب بھی یہ لوگ یاد رکھیں کہ ان کی عداوت سے اسلام کو کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ کیڑوں کی طرح خود ہی مر جائیں گے مگر اسلام کا نور دن بدن ترقی کرے گا۔ خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ اسلام کا نور دنیا میں پھیلا وے- اسلام کی برکتیں اب ان مگس طینت مولویوں کی بک بک سے رک نہیں سکتیں۔ خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے صاف لفظوں میں فرمایا ہے اَنَا الفتّاح افتح لک۔ تری نصرًا عجیبًا و یَخِرّون علی المساجد۔ ربنا اغفرلنا انا کنا خاطئین۔ جلابیب الصدق۔ فاستقم کما امرت۔ الخوارق تحت منتہی صدق الاقدام۔ کن لِلّٰہ جمیعًا و مع اللّٰہ جمیعا۔ عسٰی ان یبعثک ربّک مقامًا محمودا۔یعنی میں فتّاح ہوں تجھے فتح دوں گا ایک عجیب مدد تو دیکھے گا اور منکر یعنی بعض ان کے جن کی قسمت میں ہدایت مقدر ہے اپنے سجدہ گاہوں پر گریں گے یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے رب ہمارے گناہ بخش ہم خطا پر تھے۔ یہ صدق کے جلابیب ہیں جو ظاہر ہوں گے۔ سو جیسا کہ تجھے حکم کیا گیا ہے استقامت اختیار کر۔ خوارق یعنی کرامات اس محل پر ظاہر ہوتی ہیں جو انتہائی درجہ صدق اقدام کا ہے۔ تو سارا خدا کیلئے ہو جا تو سارا خدا کے ساتھ ہوجا۔ خدا تجھے اس مقام پر اٹھائے گا جس میں تو تعریف کیا جائے گا اور ایک الہام میں چند دفعہ تکرار اور کسی قدر اختلاف الفاظ کے ساتھ فرمایا کہ میں تجھے عزت دوں گا اور بڑھاؤں گا اور تیرے آثار میں برکت رکھ دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اب اے مولویو۔ اے بخل کی سرشت والو ۔ اگر طاقت ہے تو خدا تعالیٰ کی ان پیشگوئیوں کو ٹال کر دکھلاؤ ہریک قسم کے فریب کام میں لاؤ اور کوئی فریب اٹھا نہ رکھو پھر دیکھو کہ آخر خدا تعالیٰ کا ہاتھ غالب رہتا ہے یا تمہارا۔
والسّلام علٰی من اتبع الھدٰی
اَلمُنَبِّہ النّاصِح مرزا غلام احمد قادیانی