منصفینؔ کے غور کے لائق
یہ بات بالکل سچ ہے کہ جب دل کی آنکھیں بند ہوتی ہیں تو جسمانی آنکھیں بلکہ سارے حواس ساتھ ہی بند ہوجاتے ہیں پھر انسان دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا اور سنتا ہو۱ نہیں سنتا اور سمجھتا ہوا نہیں سمجھتا اور زبان پر حق جاری نہیں ہوسکتا۔ دیکھو ہمارے محجوب مولوی کیسے دانا کہلا کر تعصب کی وجہ سے نادانی میں ڈوب گئے دینی دشمنوں کی طرح آخر افتراؤں پر آگئے۔ ایک صاحب اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ ایک اپنے لڑکے کی نسبت الہام سے خبردی تھی کہ یہ باکمال ہوگا حالانکہ وہ صرف چند مہینہ جی کر مر گیا۔ مجھے تعجب ہے کہ ان جلد باز مولویوں کو ایسی باتوں کے کہنے کے وقت کیوں لَعْنَتَ ۱ کی آیت یاد نہیں رہتی اور کیوں یکدفعہ اپنے باطنی جذام اور عداوت اسلام کو دکھلانے لگے ہیں اگر کچھ حیا ہو تو اب اس بات کا ثبوت دیں کہ اس عاجز کے کس الہام میں لکھا گیا ہے کہ وہی لڑکا جو فوت ہوگیا درحقیقت وہی موعود لڑکا ہے الہام الٰہی میں صرف اجمالی طور پر خبر ہے کہ ایسا لڑکا پیدا ہوگا اور خدا تعالیٰ کے پاک الہام نے کسی کو اشارہ کر کے مورد اس پیشگوئی کا نہیں ٹھہرایا بلکہ اشتہار فروری ۱۸۸۶ ء میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ بعض لڑکے ِ صغرسن میں فوت بھی ہوں گے پھر اس بچے کے فوت ہونے سے ایک پیشگوئی پوری ہوئی یا کوئی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ اب فرض کے طور پر کہتا ہوں کہ اگر ہم اپنے اجتہاد سے کسی اپنے بچہ پر یہ خیال بھی کرلیں کہ شاید یہ وہی پسر موعود ہے اور ہمارا اجتہاد خطا جائے تو اس میں الہام الٰہی کا کیا قصور ہوگا کیا نبیوں کے اجتہادات میں اس کا کوئی نمونہ نہیں! اگر ہم نے وفات یافتہ لڑکے کی نسبت کوئی قطعی الدلالت الہام کسی اپنی کتاب میں لکھا ہے تو وہ پیش کریں جھوٹ بولنا اور نجاست کھانا ایک برابر ہے تعجب کہ ان لوگوں کو نجاست خوری کا کیوں شوق ہوگیا آ ج تک صدہا الہامی پیشگوئیاں سچائی سے ظہور میں آئیں جو ایک دنیا میں مشہور کی گئیں مگر ان مولویوں نے ہمدردی اسلام کی راہ سے کسی ایک کا بھی ذکر نہ کیا۔ دلیپ سنگھ کا ارادہ سیر ہندوستان و پنجاب سے ناکام رہنا صدہا لوگوں کو پیش از وقوع سنایا گیا تھا۔ بعض ہندوؤں کو پنڈت دیانند کی موت کی خبر چند مہینے اسکے مرنے سے پہلے بتلائی گئی تھی اور یہ لڑکا بشیر الدین محمود جو پہلے لڑکے کے بعد پیدا ہوا ایک اشتہار میں اسکی پیدائش کی قبل از تولد خبر دی گئی تھی سردار محمد حیات خان کی معطلی کے زمانہ میں ان کی دوبارہ بحالی کی لوگوں کو خبر سنادی گئی تھی۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور پر مصیبت کا آنا پیش از وقت ظاہر کیا گیا تھا اور پھر انکی بریّت