تمامؔ صداقتوں پر مشتمل ہے۔(۲) وہ مفصل کتاب ہے(۳) وہ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے اور دارالسلام کے طالب ہیں(۴) وہ ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور نامعلوم باتیں سکھاتا ہے(۵) ہدایت اسی کی ہدایت ہے(۶) باطل اس کی طرف کسی طور سے راہ نہیں پاسکتا(۷) جس نے اس سے پنجہ مارا اس نے عروہ وثقی سے پنجہ مارا(۸) وہ سب سے زیادہ سیدھی راہ بتلاتا ہے(۹) وہ حق الیقین ہے اس میں ظن اور شک کی جگہ نہیں(۱۰) وہ حکمت بالغہ ہے اس میں ہریک چیز کا بیان ہے(۱۱) وہ حق ہے اور میزان حق ہے یعنی آپ بھی سچا ہے اور سچ کی شناخت کیلئے محک بھی ہے(۱۲) وہ لوگوں کیلئے ہدایت ہے اور ہدایتوں کی اس میں تفصیل ہے اور حق اور باطل میں فرق کرتا ہے(۱۳) وہ قرآن کریم ہے کتاب مکنون میں ہے جس کے ایک معنے یہ ہیں کہ صحیفہ فطرت میں اس کی نقلیں منقوش ہیں یعنی اس کا یقین فطری ہے جیسا کہ فرمایا ہے ۱؂(۱۴) وہ قول فصل ہے اس میں کچھ بھی شک نہیں(۱۵) وہ اختلافات کے دور کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے(۱۶) وہ ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔ اب فرمایئے کہ یہ عظمتیں اور خوبیاں کہ جو قرآن کریم کی نسبت بیان فرمائی گئیں احادیث کی نسبت ایسی تعریفوں کا کہاں ذکر ہے؟ پس میرا مذہب ’’فرقہ ضالہ نیچریہ ‘‘کی طرح یہ نہیں ہے کہ میں عقل کو مقدم رکھ کر قال اللہ اور قال الرسول پر کچھ نکتہ چینی کروں۔ ایسے نکتہ چینی کرنے والوں کو ملحد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں بلکہ میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خداتعالیٰ کی طرف سے ہم کو پہنچایا ہے اس سب پر ایمان لاتا ہوں صرف عاجزی اور انکسار کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ قرآن کریم ہر یک وجہ سے احادیث پر مقدم ہے اور احادیث کی صحت و عدم صحت پرکھنے کیلئے وہ محک ہے اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی اشاعت کیلئے مامور کیا ہے تا میں جو ٹھیک ٹھیک منشاء قرآن کریم کا ہے لوگوں پر ظاہر کروں اور اگر اس خدمت گذاری میں علماء وقت کا میرے پر اعتراض ہو اور وہ مجھ کو فرقہ ضالہ نیچریہ کی طرف منسوب کریں تو میں ان پر کچھ افسوس نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ وہ بصیرت انہیں عطا فرماوے جو مجھے عطا فرمائی ہے۔ نیچریوں کا اول دشمن میں ہی ہوں اور ضرور تھا کہ علماء میری مخالفت کرتے کیونکہ بعض احادیث کا یہ منشا پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود جب آئے گا تو علماء اس کی مخالفت کریں گے اسی کی طرف مولوی صدیق حسن صاحب مرحوم نے آثار القیامہ میں اشارہ کیا ہے اور حضرت مجدد صاحب سرہندی نے بھی اپنی کتاب کے صفحہ(۱۰۷) میں لکھا ہے کہ ’’مسیح موعود جب آئے گا تو علماء وقت اس کو اہل الرائے کہیں گے یعنی یہ خیال کریں گے کہ یہ حدیثوں کو چھوڑتا ہے اور صرف قرآن کا پابند ہے اور اس کی مخالفت پر آمادہ ہوجائیں گے۔‘‘ والسلام علی من ابتع الھدی غلام احمد قادیانی ۲۱؍ جولائی ۱۸۹۱ء