انسانؔ جس کسی کا قول یا مذہب اپنے ریویو میں بطور نقل کے ذکر کرتا ہے وہ یا اپنے مؤیدات دعویٰ اور رائے کی مدد میں لاتا ہے یا اس کی رد کی غرض سے۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ آپ اس قول کو اپنے مؤیدات دعویٰ کے ضمن میں لائے ہیں۔ آپ نے بجز اس کے اسی دعویٰ کی تائید کیلئے ایک بخاری کی حدیث بھی لکھی ہے کہ محدث کا الہام دخل شیطانی سے محفوظ کیا جاتا ہے بلکہ وہاں تو آپ نے کھلے طور ظاہر کردیا ہے کہ آپ اسی قول کے حامی ہیں گو ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر ضرور حامی ہیں اور میرے لئے صرف اسی قدر کافی ہے کیونکہ میرا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ حدیثیں اگرچہ صحیح بھی ہوں لیکن ان کی صحت کا مرتبہ ظن یا ظن غالب سے زیادہ نہیں۔ سو ان حدیثوں کی حقیقی صحت کا پرکھنے والا قرآن شریف ہے۔ اور قرآن شریف جس قدر اپنے محامد اور اپنے کمالات بیان کرتا ہے ان پر نظر غور ڈالنے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے تئیں اپنے ماسوا کی تصحیح کیلئے محک ٹھہرایا ہے اور اپنی ہدایتوں کو کامل اور اعلیٰ درجہ کی ہدایتیں بیان فرماتا ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی شان میں فرماتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان آیات میں کئی قسم کی خصوصیتیں اور حقیقتیں قرآن کریم کی بیان فرمائی ہیں۔ از انجملہ ایک یہ کہ وہ