مریمؔ کی وفات پر دلائل لکھے ہیں یا اس کی وفات کی نسبت اپنا الہام بیان کیا ہے تو اس کو حقیقی طور پر مدعی ہونے سے کیا تعلق ہے۔ وہ تمام دلائل تومحض بطریق تنزل لکھے گئے جیسے ایک مدعا علیہ کسی مدعی کا افترا ظاہر کرنے کیلئے کسی عدالت میں ایسی سند پیش کردیوے جس سے اور بھی اس مدعی کی پردہ دری ہو تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ درحقیقت اس پر وہ تمام ثبوت پیش کرنا واجب ہوگیا جو ایک واقعی اور حقیقی مدعی پر واجب ہوتا ہے۔ افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے اس مسئلہ شناخت مدعی و مدعا علیہ پر نظر غور نہیں کی۔ حالانکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جو قاضیوں اور حکام اور علماؤں کو دھوکوں اور لغزشوں سے بچاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مولوی صاحب نے یہ دعویٰ تو کردیا کہ ہم حیات جسمانی مسیح ابن مریم آیات قطعیۃ الدلالت سے پیش کریں گے۔ لیکن بحث کے وقت اس دعوے سے نومیدی پیدا ہوگئی اس لئے اب اس طرف رخ کرنا چاہتے ہیں کہ دراصل مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی ثابت کرنا ہمارے ذمہ نہیں۔لہٰذا مولوی صاحب کو یاد رہے کہ جیسا کہ میں ابھی بیان کرچکا ہوں۔ حقیقی اور واقعی طریق عدالت یہی ہے کہ جو شخص حیات غیر طبعی مسیح ابن مریم کا مدعی ہے اسی پر واجب ہے کہ وہ آیات قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ سے حضرت مسیح کی حیات جسمانی ثابت کرے اور اگر ثابت نہ کرسکے تو یہ اول دلیل ہوگی کہ مسیح فوت ہوگیا بلاشبہ قوانین عدالت کے رو سے حقیقی اور واقعی طور پر آپ مدعی ہیں کیونکہ طبعی اور مسلّم امر کو چھوڑ کر ایک ایسا عقیدہ آپ نے اختیار کیا ہے جس کا ماننا اور قبول کرنا محتاج دلیل ہے۔ لیکن کسی انسان کا اپنی عمر طبعی تک مرجانا اور صدہا برس تک زندہ نہ رہنا محتاج دلیل نہیں بلکہ اس کے مرنے پر قانون قدرت اور سنت اللہ خود محکم دلیل ہے۔ غور فرماویں کہ اگر مثلاً کسی مفقود الخبر کی اٹھارہ سو برس تک خبر نہ ملے کہ وہ مرا ہے یا نہیں تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اب تک زندہ ہے اور کیا شریعت غرّا محمدیہ کسی تنازع کے وقت اس کی نسبت وہی احکام صادر کرے گی جو ایک زندہ کی نسبت صادر کرنے چاہئے۔ بیّنوا تُوجروا۔ پھر اس کے بعد آپ نے نصوص صریحہ بیّنہ قرآن اور حدیث سے نومید ہوکر دوبارہ آیت لیؤمننّ کے نون ثقیلہ پر زور مارا ہے اور جمہور مفسرین اور صحابہ اور تابعین سے تفرد اختیار کر کے محض اپنے خیال خام کی وجہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ آیت بوجہ نون ثقیلہ کے خالص استقبال کیلئے ہوگئی ہے جس کے فقط یہی ایک معنے ہوسکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کے نزول کے بعد کسی خاص زمانہ کے لوگ سب کے