ابؔ اس معیار کو نظر کے سامنے رکھ کر ہریک منصف دیکھ لے کہ کیا واقعی طور پر حضرت مسیح ابن مریم کی وفات کے بارے میں اس عاجز کا نام مدعی رکھنا چاہئے یا حضرت مولوی محمد بشیر صاحب اور ان کے ہم خیال مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب وغیرہ حیات جسمانی مسیح ابن مریم کے بارے میں مدعی ٹھہرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو ہم مدعی کی تعریف ابھی بیان کرچکے ہیں یعنی یہ کہ حقیقی اور واقعی مدعی کیلئے ایسی حالت کا پایا جانا ضروری ہے کہ ایک صورت میں ایک بات کا علیٰ وجہ بصیرت ہمیشہ کیلئے اقرار کر کے پھر دوسری صورت میں اسی بات کا انکار کرے۔ یہ تعریف میرے پر صادق نہیں آسکتی کیونکہ میرا بیان تو اس طرز پر نہیں کہ پہلے میں حضرت مسیح ابن مریم کی یہ غیر طبعی حیات قبول کرکے پھر اس سے انکار کر گیا ہوں تا بوجہ جدت دعویٰ اور مخالفت پہلے اقرار کے بار ثبوت میرے پر ہو لیکن مدعی ہونے کی یہ تعریف حضرت مولوی محمد بشیر صاحب اور ان کے گروہ پر صادق آتی ہے۔ کیونکہ پہلے ان کو اب تک اس بات کا اقرار ہے کہ یہ حیات مسیح کی جس کی نسبت دعویٰ ہے ایک غیر طبعی حیات ہے جو اللہ تعالیٰ کے عام قانون قدرت اور دائمی سنت اللہ سے مغائر و مخالف پڑی ہوئی ہے اور نہ صرف سنت اللہ کے مخالف بلکہ نصوص صریحہ بینہ قطعیہ قرآن کے بھی مخالف ہے کیونکہ قرآن کریم نے جو عام طور پر انسان کی بے ثبات ہستی کے بارے میں ہدایت فرمائی ہے وہ یہی ہے جو انسان اپنی عمر طبعی کی حد کے اندر مر جاتا ہے اور اگر جوانی اور درمیانی حالت میں نہیں تو ارذل عمر تک پہنچ کر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور زمانہ اس پر اثر کر کے اور انواع اقسام کے تغیرات اس پر وارد کرکے ارذل عمر تک اس کو پہنچاتا ہے یا وہ شخص پہلے ہی مرجاتا ہے۔ اس اقرار کے بعد مولوی صاحب موصوف اور ان کے گروہ کا یہ بیان ہے کہ مسیح ابن مریم جو انسان تھا اور انسانوں میں بلا کم و بیش داخل تھا اب تک نہیں مرا بلکہ صدہا برس سے زندہ چلا آتا ہے بڈھا بھی نہیں ہوا اور نہ ارذل عمر تک پہنچا اور نہ زمانہ نے کچھ بھی اس پر اثر کیا سو مولوی صاحب موصوف نے پہلے جس بات کا اقرار کیا تھا اسی بات کا پھر انکار کردیا۔ اس لئے حسب قاعدہ متذکرہ بالا حقیقی اور واقعی طور پر وہ مدعی ٹھہرگئے۔ کیونکہ میں بیان کرچکا ہوں کہ حقیقی اور واقعی طور پر مدعی اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ کسی امر کی نسبت ایک صورت میں اقرار کر کے پھر دوسری صورت میں اسی امر کا انکار کردیوے۔ کیا مولوی صاحب فقہ کے قوانین پر نظر ڈال کر یا دنیوی عدالتوں کے مقدمات پر نگاہ کر کے کوئی نظیر پیش کرسکتے ہیں کہ کسی شخص کو حقیقی طور پر مدعی تو کہا جائے مگر وہ اس تعریف سے باہر ہو۔ اور اگر اس عاجز نے مسیح ابن