پرؔ چہ نمبر ۳
مولوی صاحب
نوٹ: اس کے بعد مولوی صاحب نے چند سطر کا پھر ایک سراسر فضول جواب جس میں اعادہ پہلے ہی بیان کا تھا۔ دیا۔ جس کا ماحصل یہ تھا کہ میرا جواب آپ نے اب تک نہیں دیا۔ چونکہ وہ پرچہ بہت مختصرا ورصرف چند سطریں تھا۔ غالباً انہیں کے ہاتھ میں رہا یا گم ہوگیا بہرحال اس کا مفصل جواب لکھا جاتا ہے اور اس سے مولوی صاحب کے پرچہ کا مضمون بھی بخوبی ذہن نشین ہوجائے گا۔ افسوس مولوی صاحب کی یہ شکایت کہ ان کے سوال کا جواب نہیں ملا ساتھ ساتھ لگی جاتی ہے۔ ناظرین غور کریں۔ ایڈیٹر
میرزا صاحب
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ
آپ نے پھر میرے پر یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے آپ کے سوال کا جواب صاف نہیں دیا میں حیران ہوں کہ میں کن الفاظ میں اپنے جواب کو بیان کروں یا کس پیرایہ میں ان گزارشوں کو پیش کروں تا آپ اس کو واقعی طور پر جواب تصور فرماویں * آپ کا سوال جو اس تحریر اور پہلی تحریروں سے سمجھا جاتا ہے یہ ہے
* نوٹ-: عالی جناب!(روح من فدائے تو) آپ کیوں حیرت میں پڑنے کی تکلیف اٹھاتے ہیں مولوی صاحب تو یہی بے تکی ہانکے چلے جائیں گے جب تک آپ ان کے ما فی البطن کے میلان کے موافق یا یوں کہیئے کہ جب تک آپ خلاف صدق و سداد کے جواب نہ دیں۔ اہل بصیرت تسلیم کرچکے ہیں کہ آپ صاف مدلل اور مسکت جواب دے چکے ہیں اور کئی بار دے چکے ہیں۔ آپ نے اس قوم کے بودے تار وپود کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے اسی بات کا دلی شعور مولوی صاحب کو بے قرار کر کے ان کے منہ سے یہ مجنونانہ فقرہ نکلواتا ہے وہ یاد رکھیں کہ ان کی مغالطہ دہی کا وقت جاتا رہا۔ اڈیٹر