ہونےؔ کی نسبت ڈرتا ہوں۔ پھر ایک اور حدیث مسلم میں ہے جس میں لکھا ہے کہ صحابہ کا اس پر اتفاق ہوگیا تھا کہ دجال معہود ابن صیاد ہی ہے۔ لیکن فاطمہ کی حدیث تمیم داری جو اسی مسلم میں موجود ہے صریح اس کے مخالف ہے۔ اب ہم ان دونوں دجالوں میں سے کس کو دجال سمجھیں ؟ صدیق حسن صاحب جیسا کہ میرے ایک دوست نے بیان کیا ہے ابن صیاد کی حدیث کو ترجیح دیتے ہیں اور تمیم داری کی حدیث کو اپنی کتاب آثار القیامۃ میں ضعیف قرار دیتے ہیں۔ بہرحال اب یہ مصیبت اور رونے کی جگہ ہے یا نہیں کہ ایک ہی کتاب میں جو بعد بخاری کے اَصَحُّ الْکُتب سمجھی گئی ہے دو متعارض حدیثیں ہیں !!! جب ہم ایک کو صحیح مانتے ہیں تو پھر دوسری کو غلط ماننا پڑتا ہے۔ ماسوا اس کے تمیم داری کی حدیث میں صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ وہی دجال جو تمیم داری نے دیکھا تھا کسی وقت خروج کرے گا۔ لیکن اسی مسلم کی تین حدیثیں صاف صاف ظاہر کررہی ہیں کہ سو برس کے عرصہ تک کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا بلکہ پہلی حدیث میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے قسم کھا کر بیان فرمایا ہے کہ اس وقت سے سو برس تک کوئی جاندارزمین پر زندہ نہیں رہے گا۔ اب اگر ابن صیاد اور گرجا والا دجال جاندار اور مخلوق ہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ مر گئے ہوں۔ اب یہ دوسری مصیبت ہے جو دونوں حدیثوں کے صحیح ماننے سے پیش آتی ہے ! آپ فرماویں * کہ ہم کیونکر ان دونوں کو باوجود سخت تعارض کے صحیح مان سکتے ہیں؟ پس اب بجز اس کے اور کیا راہ ہے کہ ہم ایک حدیث کو غیر صحیح سمجھیں۔ غرض کہاں تک بیان کیا جاوے جس قدر بعض احادیث میں تعارض و تخالف پایا جاتا ہے اس کے بیان کرنے کیلئے تو ایک رسالہ چاہئے۔ مگر اس جگہ اس قدر کافی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر تمام حدیثیں روایت کے طور سے یقینی الثبوت ہوتیں تو یہ خرابیاں کاہے کو پڑتیں۔ اب میں خیال کرتا ہوں کہ میں آپ کے سوال کا پورا پورا جواب دے چکا ہوں۔ کیونکہ جس حالت میں یہ ثابت ہوگیا کہ حدیثیں بوجہ اپنی ظنی حالت اور تعارض اور دوسری وجوہ کے یقین کامل کے مرتبہ پر نہیں ہیں۔ اس لئے وہ بجز شہادت و موافقت قرآن کریم یا عدم خلاف اس کے حجت شرعی کے طور سے کام میں نہیں آسکتیں۔ اور قانون روایت کے رو سے ان کا وہ پایہ ہرگز تسلیم نہیں ہوسکتا جو قرآن کریم کا پایہ ہے۔ سو بالفعل اسی قدر لکھنا کافی ہے۔ دستخط غلام احمد ۲۰ جولائی ۹۱ ء