نوٹ: ڈاکٹر سید ظہور اللہ احمد صاحبؓ حیدر آبادی کے نام کے دو خطوط جو صفحہ۱۰تا۱۲ پر درج ہیں وہ مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل وکیل ہائیکورٹ یادگیر کی کوششوں سے ملے ہیں۔ جزاہ اللہ خیرا۔ اصل خطوط مکرم سید اسد اللہ صاحب حیدر آبادی جو اُن کے فرزند ہیں کے پاس محفوظ ہیں۔ (مرتب)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
محبی عزیزی اخویم قاضی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا خیریت نامہ پہنچا بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ تشریف لاویں آپ کی بہو کے لئے اگر ساتھ لے آویں تین چار ماہ تک کوئی بوجھ نہیں ایک یا دو انسان کا کیا بوجھ ہے۔ پھر تین چار ماہ کے بعد شاید آپ کے لئے اللہ تعالیٰ اس جگہ کوئی تجویز کھول دے۔ ومن یتوکل علی اللّٰہ وھو حسبہ سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ ہمارا اور آپ کی عمر کا آخری حصہ ہے بھروسہ کے لائق ایک گھنٹہ بھی نہیں ایسا نہ ہو کہ جدائی کی مدت موجب حسرت ہو۔ موت انسان کے لئے قطعی اور اس جگہ موت سے ایک جماعت میں نزول رحمت کی امید ہے۔ غرض ہماری طرف سے آپ کو نہ صرف اجازت بلکہ یہی مراد ہے کہ آپ اس جگہ رہیں ہماری طرف سے روٹی کی مدد اور انسان کے لئے ہو سکتی ہے اور دوسرے بالائی اخراجات کے لئے آپ کوئی تدبیر کر لیں اور امید ہے کہ خدا کوئی تدبیر نکال دے۔ زیادہ خیریت ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
۳؍ دسمبر ۱۹۰۰ء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حکیم فضل دین صاحب سے دریافت کر لیجئے کہ مہمان خانہ میں آپ کے لئے جگہ نہیں اور عنقریب میرے اس دالان کے پیچھے ایک مکان بننے والا ہے اس میں آپ رہ سکتے ہیں بالفعل گزارہ کر لیں کوئی گھرتلاش کر لیں۔
والسلام
نوٹ: اس پر ستخط موجود نہیں مگر تحریر حضور کی ہے۔ (مرتب)