وصیۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم
برادرم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں جب کہ آپ کی وفات قریب آ گئی بطور وصیت مسلمانوں کو جمع کر فرمایا۔ دِمَائُ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ (اور ابی بکرہ کی حدیث میں ہے وَاَعْرَاضَکُمْ) حَرَامٌ عَلَیْکُمْ کَحُرْمَۃِ یُوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِ کُمْ ھٰذَا فِی بَلَدِکُمْ ھٰذَا۔ اس شہر میں اس مہینہ میں اس دن کو اللہ تعالیٰ نے جو حفاظت بخشی ہے (یہ حج کے ایام کی بات ہے) وہی تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں (اور ابی بکرہ کی روایت کے مطابق اور تمہاری عزتوں) کو خدا تعالیٰ نے حفاظت بخشی ہے۔ یعنی جس طرح مکہ میں حج کے مہینہ اور حج کے وقت کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح پُر امن بنایا ہے اسی طرح مومن کی جان اور مال اور عزت کو سب کو حفاظت کرنی چاہئے جو اپنے بھائی کی جان، مال اور عزت کو نقصان پہنچاتا ہے گویا وہ ایسی ہی ہے جیسا کہ حج کے ایام اور مقامات کے بے حرمتی کرنے والا پھر آپ نے دو دفعہ فرمایا کہ جو یہ حدیث سے آگے دوسروں تک پہنچائے میں اس حکم کے ماتحت یہ حدیث آپ تک پہنچاتا ہوں آپ کو چاہئے کہ اس حکم کے ماتحت آپ آگے دوسرے بھائیوں تک مناسب موقعہ پر یہ حدیث پہنچا دیں اور انہیں سمجھا دیں کہ ہر شخص جو یہ حدیث سنے اُسے حکم ہے کہ وہ آگے دوسرے مسلمان بھائی تک اس کو پہنچاتا چلا جائے۔
والسلام
خاکسار
مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی
۱۶؍ ذیقعدہ ۱۳۵۸ھ