نہیں لیکن انہوں نے مجھے تاکید کی تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہاللہ تعالیٰ کی بیعت کر لوں چنانچہ مجھے اس کی توفیق ملی۔ والدہ صاحب نے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ہی بیعت کر لی تھی گو زیارت کا موقع نہیں ملا۔ ۱۹۱۱ء میں بوقت وفات انہوں نے حضور کی صداقت کا بار بار اقرار کیا اور اس وقت ان پر کشفی حالت طاری ہوئی اور جو باتیں انہوں نے اس وقت بتائیں جلد پوری ہوگئیں۔ مکرم احسان اللہ خان صاحب کے پاس متعدد تبرکات ہیں جن کی تفصیل خاکسار کی طرف سے بدر جلد۲ نمبر۸ ابابتہ ۱۴؍ مئی ۱۹۵۳ء میں شائع ہو چکی ہے۔ ٭٭٭ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۵۱/۱ محبی اخویم محمد ابراہیم خاں صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مبلغ ۲۵ روپے آپ کے جو آپ نے کمال اخلاص سے روانہ کئے تھے مجھ کو پہنچ گئے اور آپ کے لئے دعائے خیر کی گئی۔ اس لئے میں آپ کو رسید ۲۵ روپے سے شکرگزاری کے ساتھ اطلاع دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس خدمت کی جزائے خیر آپ کو بخشے۔ آمین۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد (لفافہ پر کاپتہ)بمقام کراچی بندر مکان قریب گورنمنٹ گارڈن بخدمت محبی اخویم محمد ابراہیم خاں صاحب بن حاجی موسیٰ خاں صاحب راقم مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۳؍ اگست ۱۹۰۳ء نوٹ از مرتب: جس روپیہ کا اوپر ذکر آیا ہے اس کی رسید حضور کی دستخطی بھی موجود ہے جس پر مرقوم ہے ’’مرزا غلام احمد ۲۹؍ اگست ۱۹۰۳ء‘‘ کا بلاک بھی علیحدہ درج کر دیا گیا ہے وہاں ہر دو میں جو کچھ مرقوم ہے وہ حضور کا قلمی نہیں۔ ان ایام میں ڈاک گوراسپور سے ہو کر جاتی ہوگی۔ کیونکہ ڈاک خانہ قادیان کی مہر ۲۹؍ اگست کی گورداسپور کی ۳۱؍ اگست کی اور کراچی کی ۳؍ ستمبر کی ثبت ہے۔ اور دستخط اور تاریخ کے درمیان حضور کی مہر ثبت ہے جو پڑھی نہیں جاتی… بمفوف اور رسید