(از قلم مبارک حضرت اقدس علیہ السلام) بشریٰ۔ میرے لئے ایک نشان آسمان پر ظاہر ہوا۔ خیر وخوبی کا نشان۔ میری مرادیں پوری ہوئیں۔ (ب) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۴۹/۶ آقائی و مولائی ایدکم اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضور یہ ایک چیتے کی کھال ہے قبول فرمائی جاوے اور اس خاکسار غلام کے حق میں دعا فرمائی جاوے کہ اللہ تعالیٰ خادم دین بناوے اعمال صالحات کی توفیق عطا ہو اور ایسی پاک زندگی میسر آ جاوے جو خدا کی رضا مندی کا باعث ہو اور خاتمہ بالخیر ہو۔ حضور اب لاہور جانے والے ہیں ہماری بہت سی کمزوریاں حضور کے سایہ کی وجہ سے نظر انداز کی جاتی تھیں۔ اب حضو رکے وجود مبارک کا سایہ جو کہ خدا کی طرف سے اس کے فضل اور رحمت کا سایہ بن کر ہماری سپر بنا ہوا تھا۔ حکمت الٰہی کی وجہ سے لاہور جاتا ہے۔ لہٰذا اب ہم لوگ حضور کی خاص دعا اور توجہ کے از بس محتاج ہیں۔ لہٰذا نہایت عاجزی سے بصد ادب التماس ہے کہ خاص خاص اوقات میں اس خاکسار اور حضور کی خادمہ اور بچے اور اقربا کے واسطے ضرور دعا کی جایا کرے۔ فقط حضور کا غلام در عبدالرحمن قادیانی احمدی بقلم خود ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۸ء السلا م علیکم کھال پہنچی۔ جزاکم اللہ خیرا۔ انشاء اللہ دعا کروں گا۔ والسلام مرزا غلام احمد (ب) نوٹ از مرتب: اس پر حضرت بھائی جی کے قلم کا ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۸ء کا ذیل کا نوٹ درج ہے۔ ’’حضرتاقدس کاپی دیکھ کر لکھ رہے تھے۔ ہاتھ میں پنسل ہی تھی۔ حضرت اقدس کے الفاظ پنسل سے تھے میں نے سیاہی سے اوپر قلم پھیر دی‘‘۔ عبدالرحمن قادیانی احمدی بقلم خود ۔ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۸ء بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۵۰/۷ آقائی و مولائی فداک روحی ایدکم اللہ تعالیٰ