مزدوروں کیلئے اشد ضرورت پیش آ گئی ہے۔ اس وقت چونکہ کوئی صورت روپیہ کی نہیں ہو سکتی اس لئے مکلّف ہوں کہ آہ محب کی بہت مہربانی ہوگی کہ اس خط کے دیکھنے کے ساتھ ہی مبلغ دو سَو روپیہ جہاں تک جلد ممکن ہو ارسال فرماویں تا اس تنگی اور تقاضا سے نجات ہو۔ آئندہ عمارت بند کر دی جائے گی۔ آپ کا خط متعلق جلسہ جوبلی چھپ گیا ہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۷؍ جولائی ۱۸۹۷ء ۱؎ اس جگہ مکتوب دریدہ ہونے کی وجہ سے ایک لفظ اُڑ گیا ہے اس کا حرف الف باقی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لفظ ’’اب‘‘ یا’’اس وقت‘‘ ہوگا۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم ۱۱/۷۴ محبی عزیزی اخویم نواب محمد علی خاں صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ الحمدللہ جو آپ نے تجویز میموریل انگریزی کے بارے میں ارقام فرمائی تھی وہ انجام کو پہنچ گئی۔ اخویم مرزا خدا بخش صاحب لاہور میں باراں دن رہ کر ایک میموریل انگریزی میں باراں۱؎ صفحہ کا چھپوا لائے ہیں جو بفضلہ تعالیٰ نہایت مؤثر اور عمدہ معلوم ہوتا ہے اور ایک اُردو میں چھپ گیا ہے۔ اب انگریزی میموریل تقسیم ہو رہا ہے اور ارادہ کیا گیا ہے کہ پنجاب کے تمام حُکّام انگریز کو بھیجا جائے۔میری طبیعت چند روز سے بعارضہ زکام و نزلہ کھانسی بہت بیمار ہے۔ خواجہ کمال الدین صاحب اپنے کام پر چلے گئے ہیں۔ میں آپ سے یہ اجازت مانگتا ہوں کہ آپ براہ مہربانی کم سے کم ایک ماہ تک بعض متفرق کاموں کے لئے جو قادیان میں ہیں مرزا خدا بخش صاحب کو اجازت دیں تا وہ پہلے میموریل کو تقسیم کریں اور پھر بعد اس کے بقیہ کام منن الرحمن کی طرف متوجہ ہوں اگرچہ یہ کام اس قدر قلیل عرصہ میںہونا ممکن نہیں لیکن جس قدر ہو جائے غنیمت ہے۔ مگر ضروری امر ہوگا آں محب (کو٭)……… اگر مرزاصاحب کو کہیں بھیجنا منظور ہو یا کوئی اور ضروری کام نکلے تو بلاتوقف آپ کی خدمت میں پہنچ جائیں گے۔ میری طبیعت آپ کی سعادت اور رُشد پر بہت خوش ہے اور امید رکھتا ہوں کہ