کوئی شخص اجر نہیں ہوسکتا۔ ایک شخص شیریں شربت پی کر اس کے پینے کی مزدوری نہیں مانگ سکتا، سویہ ایک نکتہ نہایت باریک ہے کہ بے ذوقی اور بے مزگی، تلخی اور مشقت کے ختم ہونے سے وہیں ثواب اور اجر ختم ہوتا ہے اور عبادات عبادات نہیں رہتیں۔ نکتہ معرفت۔ بلکہ ایک روحانی غذا کا حکم پیدا کرلیتی ہیں سو حالت قبض جو بے ذوقی اور بے مزگی سے مراد ہے یہی ایک ایسی مبارک حالت ہے جس کی برکت سے سلسلہ ترقیات کا شروع رہتا ہے۔ ہاں بے مزگی کی حالت میں اعمال صالحہ کا بجا لانا نفس پر نہایت گراں ہوتا ہے۔ مگر ادنی خیال سے اس گرانی کو انسان اٹھا سکتا ہے جیسے ایک مزدور خوب جانتا ہے کہ اگر میں نے آج مشقت اٹھا کر مزدوری نہ کی تو پھر فاقہ ہے اور ایک یقین رکھتا ہے کہ میں نے تکالیف سے ڈر کر نوکری چھوڑ دی تو پھر گزاراہ ہونا مشکل ہے۔ اسی طرح انسان سمجھ سکتا ہے کہ فلاح آخرت بجز اعمال صالحہ کے نہیں اعمال صالحہ۔ اور اعمال صالحہ وہ ہوں جو خلاف نفس اور مشقت سے ادا کئے جائیں اور عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ دل سے کام کے لئے مصحم عزم کیاجائے۔ اس کے انجام کے لئے طاقت مل جاتی ہے۔ سو مصحم عزم اور عہدواثق سے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور نماز میں اس دعا کو پڑھنے میں کہ