۴/۸ ایک گشتی مکتوب
یہ ایک مکتوب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بظاہر حضرت حکیم الامۃ مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح اوّل ؓکے نام بشیراوّل کی وفات پر لکھتا تھا مگر اس مکتوب کی متعدد و نقول میاں شمس الدین ساکن قادیان (جو حضرت اقدس کے استا د اوّل میاںفضل الٰہی کے بیٹے تھے۔ ابتداً اور عموماً حضرت اقدس کے مسوّدات کو خوشخط صاف کیا کرتے تھے) نے کی تھیں اور حضر ت اقدس نے ایک نقل لودہانہ کپور تھلہ کے احباب اور بعض رحص احباب کو روانہ فرمائی تھیں۔ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓکے مکتوبات میں اسے چھوڑ دیا تھا اس لئے وہ حقانی تقریر کے مضمون کا خلاصہ تھا اور میںنے اس جلد کے آخر میں اس کاذکر بھی کیا تھا لیکن چونکہ یہ مکتوب متعدد احباب کو بھیجا گیا تھا اس لئے میںاس متفرق مکتوبات کے سلسلے میں اسے شائع کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ وہ سلسلے کے ریکارڈ میںمحفوظ ہوجائے۔ اس مکتوب میںحضرت نے بعض احباب کے اخلاص خاص کاذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ’’ یہ بشیر درحقیقت ایک شفیع کی طرح پیدا ہوا اور اس کی موت ان سچے مومنوں کے گناہوں کا کفارہ ہے جن کو اس کے مرنے پر للہ غم ہوا۔ یہاں تک کہ بعض نے کہا کہ اگر ہماری ساری اولاد مر جاتی اور بشیر جیتا رہتا تو ہمیں کچھ رنج نہ تھا۔‘‘