دین اور دنیا میںاس کا اجر بخشے آمین باقی سب خیریت ہے والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ نمبر ۱:۔ حضرت سیٹھ اسماعیل آدم کے نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ایک خاص مکتوب درج کیا جاتا ہے۔ اس خط کا فوٹو الحکم کے جوبلی نمبر میں مرحوم محمود احمدعرفانی نے شائع کیا تھا یہ خط اپنے اندر ایک تاریخ رکھتا ہے۔ حضرت امیرالمومینین خلیفۃالمسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی شادی پرمکرمی حضرت سیٹھ اسماعیل آدم نے ایک تحفہ حضرت کی خدمت میں بھیجا تھا وہ ایک ٹوپی تھی او راوڑھنی تھی ٹوپی پر کلاتبوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ابہام درج تھا فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاوّل والآخر مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت سیٹھ صاحب دوسرے اکابر صحابہ کی طرح اس وقت بھی حضرت خلیفہ ثانی کے مصلح موعود ہونے کایقین رکھتے تھے۔ نوٹ نمبر ۲:۔ حضرت سیٹھ اسماعیل آدم صاحب کے نام خطوط سے خود سیٹھ صاحب کی سیرۃ پر بھی ایک روشنی پڑتی ہے گو مکتوبات کی اشاعت میں مکتوب الیہ کے سوانخ حیات یا سیرۃ پر بحث مقصود نہیں یہ چیزیں خود ان کے سوانخ حیات میں تفصیلاً اور کتاب تعارف میں اجمالاً آئیں گی مگر میں یہاں اپنے دلی جوش کو دبانہ رہوں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خطوط سے مکرم سیٹھ صاحب کایہ عمل ثابت ہوتا ہے کہ وہ جب حضرت صاحب کی خدمت میں عریضہ لکھتے تو اس کے ساتھ ضرور ایک مقررہ رقم بھیجتے۔ خواہ ایسے خطوط کتنی مرتبہ لکھنے پڑتے۔ یہ