۱۸۵۔ اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے نزدیک یہ ارادہ ہر گز مناسب نہیں کہ اس سے خود غرضی اور دنیا طلبی سمجھی جاتی ہے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ مدرسہ مخص دینی اغراض کی وجہ سے ہے اور صبر سے ا س میں کام کرنے والے خدا تعالیٰ کی رحمت سے نزدیک ہوتے جاتے ہیں چونکہ یہ مدرسہ نیک نیتی سے مخص دینی تخم ریزی کرنے کے لئے قائم کیا گیاہے اس لئے میرے خیال میں استغفار دینے والوں کے استغفا سے ا س کا کچھ بھی حرج نہ ہو گا۔ خدا تعالیٰ نے ا س کے لئے اور خدمت کرنے والا پید اکر دے گا۔ لیکن اگر کوئی اس مدرسہ سے الگ ہو کر اپنی دنیا طلبی میں ادھر ادھر خراب ہو گا تو وہ رفتہ رفتہ دین سے دور ہو جائے گا۔ چاہئے کہ صبر کے ساتھ گزار کریں اگر خداتعالیٰ اس قدر لیاقت نہ دیتا تب بھی پانچ سات روپیہ میں گزارہ کرنا ہوتا بلکہ میں نے آپ کے امتحان کی ناکامی کے وقت سوچا تھا کہ اس میں کیا حکمت ہے تو میرے دل میں یہی حکمت خیال آئی تھی کہ تا دینوی طمع کا دامن کم کر کے دین پیش کیا جائے۔ پس امتحان میں پاس نہ ہونا ایسا ہی تھا جیسا کہ خضر نے کشتی کا تختہ توڑ دیا تھا تا عمدہ حالت میں ہو کر غیروں کے ہاتھ میں نہ جا پڑ یں اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر آپ اس جگہ سے استغفا دو گے تو عیالدادی کے لحاظ سے قادیان کو چھوڑنا ہی پڑے گا اور یہی صورت دینی تعلقات سے دور ہونے کے لئے عمدہ ہو جائے گی صحابہ رضی اللہ عنہم کی حالت سب خدا کے لئے ہو گئی تھی مگر اس زمانہ میں اس قدر غنیمت ہے کہ اس جماعت کی ایسی حالت ہو جائے کہ کچھ خدا کے لئے اور کچھ دنیا کے لئے ہوں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد