تعارفی نوٹ
شیخ فتح محمدؐصاحب آغاز شباب میں بہ حثیت طالب علم حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ کے حضور جمون پہنچے اور آپ کی خدمت میں کچھ کتابیں پڑھیں اور آپ کے توسط سے سلسلہ ملازمت میں منسلک ہو گئے ذہین اور زیرک ہونے کے ساتھ طبیعت تیز تھی اور اس وجہ سے دوستوں کی بجائے دشمن زیادہ پیدا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اخلاص رکھتے تھے اور حضور مولفتہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز بھی ہمیشہ چشم پوشی فرماتے رہے۔ بالآخر میں قادیان سے باہر گیا ہوا تھا معلو م ہوا کہیں روپوش ہو گئے او رپھر واپس آئے اللہ تعالیٰ ان کی شادی فرمائے او ر ان کی اولاد میں صلاحیت ہے اور وہ سلسلہ سے وابستہ ہیں شیخ صاحب کے پاس حضرت اقدس کے خطوط کاایک اچھا مجموعہ تھا او رمجھے دینے کا وعدہ کرتے رہے مگر میری غیر حاضری او ر ان کی روپوشی نے موقعہ نہ دیا۔ ذیل کے مکتوبات ان کے فرزند رشید صالح محمد صاسے حاصل کر کے ملک فضل حسین صاحب نے الفضل میں شائع کئے ہیں۔
(عرفانی کبیر)