کے ساتھ انہیں دلچسپی نہ تھی ظاہری امور پر زور دیتے تھے۔ جیسے مسیح ناصری علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عہد میں فقیہ اور فریسنی ہوتے تھے۔
مولوی الہ دتا صاحب زیادہ عرصہ تک قادیان میں نہ رہ سکے او راس کام کو چھوڑ کر چلے گئے مگر حضرت اقدس سے ان کو محبت اور اخلاص تھا اور حضرت اقدس کے ……کے وہ قائل تھے۔ واپس جانے کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے حضرت اقدس نے اس کو ایک منظوم خط لکھا اور وہ فارسی زبان میں تھا۔ حضرت اقدس نے اس کا جواب فی البدیہ فارسی نظم میںلکھ کر بھیج دیا اس خط کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے اس وقت بھی قائل تھے اور آپ کو زندہ نبی یقین کرتے تھے۔
اس خط سے اس محبت و عقیدت کا بھی پتہ چلتا ہے جو آپ کو نبیوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اور یہ اس قدر آپ پر غالب تھی کہ
من تو شدم تو من شدی
کا مضمون صادق آتا ہے۔ حضرت مولوی نور احمد صاحب اس تبرک کا نہایت عزت و احترام سے رکھتے تھے۔ تبرک مکتوب ۱۹۰۹ء میں کپور تھلہ حضرت مفتی ڈاکٹر صادق صاحب سلمہ کے ذریعہ پہنچا او رپھر شائع ہو گیا حضرت منشی ظفر احمد نے اصل سے نقل کیا۔
(عرفانی کبیر)