کی تھی اور جیسے انہوں نے اپنی سعادت مندی اور نیک چلنی اور صدق ومحبت کا عمدہ نمونہ دکھایا تھا۔ یہ باتیں عمر بھر کبھی بھولنے کی نہیں۔ ہمیں کیا خبر تھی لب دوسرے سال پر ملاقات نہیں ہو گی۔ دنیا کی اسی نام پائیداری کو دیکھ کر کئی بادشاہ بھی اپنے تحتوں سے الگ ہو گئے آپ کے دل پر بھی جس قدر ہجوم غم کا ہو گا اس کا کون اندازہ کر سکتا ہے اس ناگہانی واقعہ کا غم درحقیقت ایک جابکاہ امر ہے۔ لیکن چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے اس لئے ایسی بھاری مصیبت پر جس قدر صبر کیا جائے اسی قدر امید ثواب ہے لہذا امید رکھتا ہوں کہ آپ مرضی مولا پر راضی ہو کر صبر فرما دیں گے اور مردانہ ہمت او راستقامت سے متصلقین کو تسلی دے گے۔ میں نے ایک جگہ دیکھا ہے کہ بعض خدا کے بندے جب دنیا سے انقطاع کر کے خدا تعالیٰ سے ملیں گے تو ان کے نامہ اعمال میں مصیبتوں کے وقت صبر کرنا بھی ایک بڑا عمل پایا جائے گا۔ تو اسی عمل کے لئے بخشے جائیں گے۔ بخدمت محبی اخویم سید حامد شاہ صاحب السلام علیکم و مضمون واحد خاکسار غلام احمد از قادیان خط کے پہنچتے ہی دعائے مغفرت بہت کی گئی اور کرتا ہوں مگر تجویز ٹھہری ہے کہ جنازہ جمعہ کے روز پڑھا جاوے۔ نوٹ۔ چنانچہ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کے کارڈ سے معلوم ہوا کہ قبل از جمعہ حضور مقدس نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہت دیر تک چپ چاپ کھڑے دعائیں مانگتے رہے۔