(تعارفی نوٹ) حضرت میر حکیم حسام الدین صاحب رضی اللہ عنہ سیالکوٹ کے …اور حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کے والد بزرگ وار تھے۔ حضرت حکیم صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شرف تلمذ بھی حاصل تھا۔ آپ نے طب کی بعض ابتدائی کتابیں حضور سے پڑھیں تھیں حکیم صاحب مرحوم نے حضرت اقدس کو عین عنفوان شباب میں دیکھا تھااور حضور کی متقانہ زندگی کا اُن پر خاص اثر تھا۔ حضرت کی نیم شبی دعاؤں اور قرآن مجید کے ساتھ عشق ومحبت کے نظارے ان کے دل کو تسخیر کر چکے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب حضرت اقدس نے خدا کی طرف سے مامور اور مرسل ہونے کا دعوی کیا تو حضرت حکیم صاحب کو ایک لحظ کے لئے بھی شک و شبہہ نہیں ہوا۔ حضرت اقدس بھی حکیم صاحب سے بہت محبت رکھتے تھے حکیم صاحب مرحوم تیز طبیعت واقع ہوئے تھے لیکن حضرت اقدس کے سامنے وہ بہت موذب اور محتاط ہوتے تھے۔ حضور کو حکیم صاحب کی دلجوئی اور خاطر واری ہمیشہ ملحوظ رہتی تھی۔ منارۃ المسیح کی تعمیر کاکام جب شروع ہوا تو حکیم صاحب مرحوم ہی کو اس کااہتمام دیا گیا اور انہوں نے اپنے صاحبزادے میر عبدالرشید صاحب کو اس کام پر مامور کیا۔ غرض حضرت اقدس کے ساتھ حکیم صاحب کا اخلاص و محبت قابل رشک تھی اور حضور بھی ان کا احترام کرتے تھے۔ حضرت حکیم صاحب کے ساتھ حضرت میر خصلیت علی شاہ صاحب رضی اللہ عنہ