محبی عزیزی نواب صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ا گرچہ آں محبت کی ملاقات پر بہت مدت گزر گئی ہے اور دل چاہتا ہے کہ او ر دوستوں کی طرح آپ بھی تین چارماہ تک میرے پاس رہ سکیں۔ لیکن اس خانہ داری کے صدمہ سے جو آپ کو پہنچ گیا ہے۔ بڑی مشکلات پید اہو گئی ہیں۔ یہ روک کچھ ایسی معلوم نہیں ہوتی کہ ایک دو سال تک بھی دور ہو سکے بلکہ یہ دائمی اور اس وقت تک ہے کہ ہم دنیا سے چلے جائیں۔ غرض سخت مزاحم معلوم ہوتی ہے۔ صرف یہ ایک تدبیر ہے کہ آپ کی طرف سے ایک زنانہ مکان بقدر کفالت قادیان میں تیار ہو اور پھر کبھی کبھی معہ قبائل اور سامان کے اس جگہ آجایا کریں اوردو تین ماہ تک رہا کریں لیکن یہ بھی کسی قدر خرچ کا کام ہے اور پھر ہمت کاکام ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اسباب پیدا کردے اوراپنی طرف سے ہمت اور توفیق بخشے۔ دنیا گذشتنی و گذاشتتنی ہے وقت آخر کسی کو معلوم نہیں۔ اس لئے دینی سلسلہ کو کامل کرنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ دانشمند کے لئے فخر سے شام تک زندگی کی امید نہیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے کسی سے یہ عہد نہیں کیا کہ اس مدت تک زندہ رہے گا۔ ماسوا اس کے ہمارے ملک میں طاعون نے ایسے ہی پیرجمائے ہیں کہ دن بدن