قبول ہوجائیں۔ گو مشیت الٰہی نے یہ قانون رکھا ہے کہ بعض دعائیں مقبولوں کی بھی قبول نہیں ہوتیں لیکن جب دعا کمال کے نقطہ تک پہنچ جاتی ہے۔ جس کا پہنچ جانا محض خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ ضرور قبول ہوجاتی ہے۔ یہ کبریت احمر ہے جس کا وجود قلیل ہے۔ والسلام خاکسار مرزاغلام احمد عفی عنہ از قادیان مکتوب (۵۶) نمبرملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ مجھ کو ملا۔ جو کچھ آپ نے مجھ کو لکھا ہے اس سے مجھے بکلی اتفاق ہے۔ میںنے مفتی محمد صادق صاحب کو کہہ دیا ہے کہ آپ کے منشاء کے مطابق جواب لکھ دیں اورآپ ہی کی خدمت میں بھیج دیں۔ آپ پڑھ کر اور پسند فرما کر روانہ کر دیں۔ ہاں ایک بات میرے نزدیک ضروری ہے گو آپ کی طبیعت اس کو قبول کرے یا نہ کرے اوروہ یہ ہے کہ ہمیشہ دو چار ماہ کے بعد کمشنر صاحب وغیرہ حکام کو آپ کا ملنا ضروری ہے۔ کیو نکہ معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ بعض شکی مزاج حکام کو جو اصلی حقیقت سے بے خبر ہیں ہمارے فرقہ پر سوء ظن ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی حکام کو نہیں