مکتوبات کے متعلق مرتب کا نوٹ جس قدر مجھے مکتوبات مل سکتے تھے۔ وہ میں نے جمع کر دیئے ہیں والحمدللہ علی ذالک۔ ایک مکتوب کو میںنے عمداً ترک کر دیا ہے اور حضرت حکیم الامۃ کے مکتوبات میں بھی اسے چھوڑا ہے اوریہ وہ مکتوب ہے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بشیراوّل کی وفات پر لکھا تھا۔ وہ خط دراصل حضرت حکیم الامۃ کے نام تھا۔ مگر اس کی نقول آپ نے متعدد احباب کے نام بھجوائی تھیں۔ میں اس مکتوب کو متفرق خطوط کی جلد میں انشاء اللہ العزیز شائع کروں گا اور اس میں ان دوستوں کے اسماء گرامی بھی لکھ دوںگا۔ (انشاء اللہ ) جن کی خدمت میں ان کی نقول بھیجی گئی تھیں۔ میں ان تمام احباب کو جنہیں حضرت چوہدری صاحب مرحوم سے تعلق رہا ہے۔ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس کام میں میرے معین و مددگار ہوں اور اگر کسی کے پاس چوہدری صاحب کا کوئی خط یا نظم ہویا کوئی واقعہ ان کے سوانخ حیات سے متعلق انہیں کام ہوتو وہ لکھ کر مجھے ضرور بھیج دیں۔ یہ کام قلمی اور مابی تعاون کا ہے اورمیں اپنے دوستوں سے بجا توقع رکھتا ہوں اور انہیں کہتا ہوں نام نیک رفتگان ضائع مکن تا بماند نام نیکت برقرار میرے لئے بھی دعا کریں کہ میںاس کام کو سرانجام دے سکوں۔ وباللہ التوفیق۔ (عرفانی)