آپ تیار کر وا کر بذریعہ ریل بھیج دیں اور ریل کے کرایہ کو دیکھ لیں کہ زیادہ نہ ہو۔ کیونکہ ایک مرتبہ دہلی سے ایک پالکی منگوائی تھی اور غلطی سے خیال نہ کیا گیا۔ آخر ریل والوںنے پچاس روپیہ اس کا کرایہ لیا۔ باقی سب خیریت ہے۔ طاعون سے اس طرف شور قیامت بپا ہے۔ دن کو آدمی اچھا ہوتا ہے اور رات کو موت کی خبر آتی ہے۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
۲۹؍ اپریل ۱۹۰۲ء
(۲۷۵) ملفوف
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عنایت نامہ پہنچا۔ چونکہ اس جگہ بنائی کا کام مشکل ہے۔ ہر طرف طاعون کی بیماری ہے۔ کوئی آدمی ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ اگرچہ سات روپیہ تک کرایہ کی زیادتی ہو۔ تو کچھ مضائقہ نہیں۔ وہیں سے تیار ہوکر آنی چاہئیں۔ لیکن اگر کرایہ زیادہ مثلاً بیس پچیس روپیہ… ہو تو پھر سامان پلنگوں کا بھیج دیا جائے۔ ایک پلنگ نواڑکا ہو او ردو عمدہ باریک سن کی سوتری کے۔ غرض اس جگہ پلنگوں کے بننے کی بڑی دقت پیش آئے گی۔ ہر طرف زراعت کاٹنے کے دن ہیں او رایک طرف طاعون سے قباحت بر پا ہے۔ لوگوں کو سروے دفن کرنے کے لئے جگہ نہیں ملتی ۔ عجیب حیرانی میں گرفتار لوگ ہیں۔ جہاں تک جلد ممکن ہو جلد تر روانہ فرمادیں۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
۶؍ مئی ۱۹۰۲ء